پٹنہ: بہار میں سمراٹ چودھری حکومت نے ریاست کے 550 سے زیادہ ماڈل اسکولوں کو زعفرانی رنگ میں رنگ دیا۔ یہی نہیں حکومت نے ماڈل اسکولوں کا نام بدل کر سرسوتی ودیا نکیتن رکھ دیا۔ حکومت کے اس اقدام کے بعد سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ حکمران نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے شراکت داروں کو حکومت کے اس اقدام میں کوئی خرابی نظر نہیں آرہی ہے۔ جہاں اپوزیشن نے اس اقدام پر اعتراض جتایا ہے وہیں ریاست کے وزیر تعلیم متھیلیش تیواری کا کہنا ہے کہ بھگوا رنگ بہار میں خوشحالی لائے گا۔ انہوں نے ایک متنازعہ دعوے میں کہا کہ، "بہار کو خوشحال بنانا ہے۔ اسی لیے بھگوا رنگ کا استعمال کیا گیا ہے۔ دیوی سرسوتی اس رنگ سے خوش ہوتی ہیں۔" بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اتحادی جماعت جنتا دل (یونائیٹڈ) نے اس معاملے کو ہلکے میں لیتے ہوئے حکومت کا دفاع کیا۔ جے ڈی یو کے ترجمان نیرج کمار نے کہا، "یہ سیاسی بیان بازی ہے۔ کیا بہار میں صرف ماڈل اسکول ہی اسکول ہیں؟ کیا یہاں پرائمری اسکول، پنچایت اسکول، مدرسے اور سنسکرت اسکول نہیں ہیں؟ بھگوا کاری کہاں ہوئی؟ یہ اپوزیشن کی سوچ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "ماڈل اسکولوں کے حوالے سے ہماری تشویش صرف یہ تھی کہ آباؤ اجداد اور زمین کے عطیہ دہندگان کے نام نمایاں طور پر ظاہر کیے جائیں، اور ایسا ہی کیا گیا ہے۔ اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا، یہ عجیب بات ہے کہ 'چرواہا ودیالیہ' ماڈل سے وابستہ لوگ اچانک اسکولوں کے بارے میں فکر مند ہوگئے ہیں۔ ’چرواہا ودیالیہ‘ ماڈل ایک سماجی تجربہ تھا جو 1991 میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈر لالو پرساد یادو کی قیادت والی حکومت نے شروع کیا تھا۔ اس کو پسماندہ دیہی بچوں اور مویشی پالنے والوں کے لیے بنیادی خواندگی اور پیشہ ورانہ مہارتیں لانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جو روایتی طور پر رسمی تعلیم سے محروم تھے۔ اپوزیشن کو گھیرنے کی کوشش کرتے ہوئے، بی جے پی ایم ایل اے نیرج کمار ببلو نے کہا، "آر جے ڈی کے پاس کوئی کام نہیں بچا ہے۔ وہ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ اس لیے وہ حکومت کے ہر اچھے اقدام کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہیں بھگوا سے کیا مسئلہ ہے؟ پورا ملک بھگوا ہو گیا ہے۔ بہار بھی بھگوا ہو گیا ہے۔" بی جے پی کی ایک اور اتحادی لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) نے دعویٰ کیا ہے کہ فیصلہ اسکولوں کو تبدیل کرنے کے بارے میں نہیں تھا بلکہ اسکول کھولنے کے بارے میں تھا۔ پارٹی لیڈر اشرف انصاری نے دعویٰ کیا کہ حکومت ترقی کے بارے میں فکر مند ہے اور اس کے لیے کام کر رہی ہے۔ پارٹی کے ممبر قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) اشرف انصاری نے کہا، ’’وہ اپنے اسکول کھول سکتے تھے اور اپنا رنگ رکھ سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ دوسری جانب ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے واضح طور پر کہا ہے کہ اسکولوں کو بھگوا بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پارٹی کے قانون ساز اختر الایمان نے کہا ہے کہ "اسکول بی جے پی کے فنڈز سے نہیں بنائے جا رہے ہیں اور وزیر تعلیم کو یہ غلط فہمی ہوگئی ہے، یہ اسکول عوام کی محنت اور ٹیکس سے بنائے جا رہے ہیں، اسکولوں کو کسی بھی صورت میں بھگوا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تعلیمی نظام تباہ ہو چکا ہے، سبھی جانتے ہیں کہ نیٹ کے طلباء کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ حکومت صرف گال بجا رہی ہے۔"
Source: Admin
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
9 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments