Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

تحقیق و ترقی کی دوڑ میں امریکہ کے برابر پہنچا چین، وائٹ ہاؤس رپورٹ میں انکشاف

تحقیق و ترقی کی دوڑ میں امریکہ کے برابر پہنچا چین، وائٹ ہاؤس رپورٹ میں انکشاف

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک اہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ) کے شعبے میں چین اب امریکہ کے برابر کا حریف بن چکا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بیجنگ کی منظم حکمت عملی اور مسلسل سرمایہ کاری کے باعث مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اس کی صلاحیتیں تیزی سے مضبوط ہو رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ ’سائنس: اے نیو گولڈن ایج‘ میں امریکہ کے تقریباً 200 ارب ڈالر سالانہ وفاقی تحقیقاتی نظام کی ازسر نو تشکیل کے لیے ایک جامع خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تحقیق و ترقی پر چین کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور قوتِ خرید کے مساوی (پرچیزنگ پاور پیریٹی) کے حساب سے بعض پیمانوں پر یہ اخراجات اب امریکہ کے برابر پہنچ چکے ہیں۔ رپورٹ میں اس مقابلے کو سرد جنگ کے دور کی سائنسی اور تکنیکی مسابقت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ امریکہ، چین اور یورپی یونین کے درمیان موازنے پر مبنی ایک چارٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی مرتبہ امریکہ کو تحقیق و ترقی کے اخراجات کے معاملے میں اپنے برابر کا عالمی حریف ملا ہے۔ دستاویز کے مطابق چین نے سائنسی تحقیق کو اپنی عالمی مسابقتی حکمت عملی کا مرکزی جزو بنا لیا ہے۔ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر فیصلے کیے جا رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں تحقیقاتی سرگرمیوں کے درمیان مؤثر تال میل قائم کیا گیا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت چین بنیادی سائنسی تحقیق کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل مختص کرنے، اہم ٹیکنالوجیز میں تیزی سے پیش رفت کرنے اور اختراعی نظام کو مضبوط بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ رپورٹ میں خودکار سائنسی تجربہ گاہوں کے میدان میں بھی چین کو امریکہ کا مضبوط حریف قرار دیا گیا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی مدد سے تجربات کی منصوبہ بندی اور ان کے نفاذ کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔ اگرچہ امریکہ نے اپنی قومی تجربہ گاہوں میں اس نوعیت کی ابتدائی سہولتیں قائم کی ہیں، تاہم چین اور کینیڈا جیسے ممالک اس شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے سفارش کی ہے کہ وفاقی وسائل کو مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز، جوہری انشقاق و امتزاج، جدید مواصلاتی نظام، روبوٹکس، مینوفیکچرنگ اور خلائی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں پر مرکوز کیا جائے۔ رپورٹ میں ہندوستان یا اس کے سائنسی اداروں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی قومی ٹیکنالوجی مشن میں اسے ممکنہ شراکت دار کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ البتہ مالی سال 2028 کی تحقیقاتی ترجیحات سے متعلق میمورنڈم میں وفاقی ایجنسیوں کو ایسے منصوبوں پر غور کرنے کی اجازت دی گئی ہے جن میں بین الاقوامی شراکت دار اخراجات میں حصہ دار ہوں۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ماضی میں امریکہ میں ہونے والی کئی اہم سائنسی دریافتوں کا صنعتی فائدہ دوسرے ممالک کو حاصل ہوا۔ اسی پس منظر میں وائٹ ہاؤس نے امریکی تحقیقاتی نظام میں بنیادی اصلاحات اور نئی ترجیحات کے تعین کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments