نئی دہلی : بہار میں قانون ساز کونسل کے انتخابات کے درمیان جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) سے 6 سال کے لیے نکالے گئے رکن اسمبلی اننت سنگھ نے اب کھل کر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی سے علیحدگی کے بعد انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ مستقبل میں وہ اپنی الگ سیاسی جماعت بنا سکتے ہیں۔ اننت سنگھ نے کہا کہ انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ آگے کیا ہوگا، کیونکہ ضرورت پڑنے پر وہ اپنی پارٹی بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کبھی ٹکٹ مانگنے کے لیے کسی سیاسی جماعت کے دروازے پر نہیں گئے۔ ان کے مطابق، سیاسی جماعتیں ٹکٹ دیتی ہیں، لیکن سیاست میں ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔
جے ڈی یو کے سیاسی مستقبل پر اٹھائے سوال
اننت سنگھ نے جے ڈی یو کے مستقبل پر بھی سخت تبصرہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب پارٹی کا سیاسی مستقبل کمزور ہو چکا ہے اور آنے والے انتخابات میں جے ڈی یو کے لیے دو ہندسوں میں نشستیں حاصل کرنا بھی مشکل ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کی ناراضگی پارٹی تنظیم سے ہو سکتی ہے، لیکن بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے لیے ان کے دل میں احترام برقرار ہے۔ اننت سنگھ نے کہا کہ نتیش کمار کی طبیعت اکثر ٹھیک نہیں رہتی اور وہ ان کے خلاف ذاتی طور پر کبھی کچھ نہیں کہیں گے۔
عوام کو بتایا سب سے بڑی طاقت
پارٹی سے نکالے جانے کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اننت سنگھ نے کہا کہ انہیں اس کارروائی پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ ان کے مطابق، سیاست میں آخری فیصلہ عوام کرتے ہیں اور عوام ہی سب سے بڑی طاقت ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام نے جو بھی فیصلہ کیا ہے، وہ اسے قبول کرتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج پارٹی میں ایسے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے تنظیم کو مضبوط بنانے میں حقیقی کردار ادا کیا ہے۔
اننت سنگھ نے اپنے بیان میں اشارہ دیا کہ جے ڈی یو کے اندر اب پہلے جیسے حالات نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ انہیں پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کس سطح پر لیا گیا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگوں نے پارٹی پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ان کی توجہ اپنی سیاسی طاقت کو مزید مضبوط بنانے پر رہے گی۔ اننت سنگھ نے ایک بار پھر جے ڈی یو کے مستقبل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آنے والے انتخابی نتائج سے پارٹی کی صورت حال واضح ہو جائے گی۔
نتیش کمار کے ساتھ تعلقات پر کیا کہا؟
حالیہ سیاسی تنازع کے باوجود اننت سنگھ نے واضح کیا کہ ان کے اور نتیش کمار کے درمیان کوئی ذاتی دوری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ نتیش کمار کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ان کے خلاف بیان بازی نہیں کریں گے۔جب ان سے وزیر اعلیٰ کے بیٹے نشانت کمار کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ان کے پاس کہنے کے لیے کچھ خاص نہیں ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ سیاست میں اصل طاقت عوام کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔
قانون ساز کونسل کا انتخاب تنازع کی وجہ بنا
پورے تنازع کی شروعات قانون ساز کونسل کے انتخابات کے دوران ہوئی۔ اننت سنگھ نے جے ڈی یو کے سرکاری امیدوار نیرج کمار کی حمایت کرنے کے بجائے جن سوراج کے امیدوار انوج سنگھ کے حق میں کھل کر انتخابی مہم چلائی تھی۔انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اپنی ہی پارٹی کے امیدوار کی مخالفت کی اور کئی سینئر رہنماؤں کے بارے میں عوامی سطح پر بیانات بھی دیے۔ اس سے جے ڈی یو کی قیادت ناراض ہو گئی تھی۔
ووٹنگ کے بعد جے ڈی یو کی بڑی کارروائی
قانون ساز کونسل کے انتخابات میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد جے ڈی یو نے انضباطی کارروائی کرتے ہوئے اننت سنگھ کو 6 سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا۔ اس کے ساتھ ہی ان کی اہلیہ اور سابق رکن اسمبلی نیلم دیوی کی بنیادی رکنیت بھی ختم کر دی گئی۔جے ڈی یو کا موقف ہے کہ پارٹی کے طے شدہ فیصلے کے خلاف جا کر دوسرے امیدوار کی حمایت کرنا تنظیمی نظم و ضبط کی خلاف ورزی ہے۔ اسی بنیاد پر دونوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔
بہار کی سیاست میں نئی صف بندی کے اشارے
اننت سنگھ کے تازہ بیان نے بہار کی سیاست میں ہلچل مزید بڑھا دی ہے۔ ایک طرف انہوں نے جے ڈی یو کے مستقبل پر سوال اٹھائے ہیں، تو دوسری جانب نئی سیاسی جماعت بنانے کا اشارہ دے کر ریاست میں نئے سیاسی اتحادوں اور صف بندیوں کی بحث چھیڑ دی ہے۔اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اننت سنگھ آنے والے دنوں میں اپنی الگ جماعت بنانے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں یا بہار کی سیاست میں کسی نئے سیاسی محاذ کا حصہ بنتے ہیں۔
نئی دہلی : بہار میں قانون ساز کونسل کے انتخابات کے درمیان جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) سے 6 سال کے لیے نکالے گئے رکن اسمبلی اننت سنگھ نے اب کھل کر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی سے ع...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments