اسلام کے مقدس ترین مقامات کے سربراہ نے اتوار کو یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے مکہ اور مدینہ کی طرف بار بار کیے جانے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس ایک ایسی ’سرخ لکیر ہے جسے پار نہیں کیا جا سکتا۔‘
مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے دینی امور کے صدر شیخ عبدالرحمان السدیس نے کہا کہ یہ مسلسل حملے ملیشیا کے ’مجرمانہ طرزِ عمل‘، مسلمانوں و ان کے مقدس مقامات کے خلاف ناپاک عزائم کو ظاہر کرتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں شیخ عبدالرحمان السدیس نے ان حملوں کو شریعتِ اسلامیہ (جو مقدس مقامات کے تحفظ کا حکم دیتی ہے) اور بین الاقوامی انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
ان کی یہ مذمت سنیچر کو ہونے والی سرحد پار سے شدید فائرنگ کے بعد سامنے آئی جب سعودی فضائی دفاع نے مکہ اور مدینہ کے علاقوں کی طرف حوثیوں کے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔
سعودی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس کے مطابق امدادی ٹیموں نے مکہ کے وادی المغمس، جدہ کے المحلہ النزہہ، طائف کے وادی جلیل، اور رابغ کے مستورہ سینٹر سمیت کئی مغربی علاقوں میں گرنے والے ملبے سے نمٹا۔
سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں قانونی حکومت کی عملداری کے لیے قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق فوجی دفاع اتوار کی صبح تک ہائی الرٹ پر رہا کیونکہ حوثیوں نے ریاض کے علاقے کو نشانہ بناتے ہوئے مسلح ڈرون داغے (ایک رات 1 بجے کے فوراً بعد اور دوسرا صبح تقریباً 5 بجے) اور ان دونوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
صبح 6 بجے کے فوراً بعد سعودی سول ڈیفنس نے ایک الارم بجایا جس میں دارالحکومت کو درپیش ’فضائی خطرے‘ سے خبردار کیا گیا جس کے بعد دو زور دار دھماکے سنے گئے۔
ترکی المالکی نے بعد میں اعلان کیا کہ اتحادی فضائی دفاع نے ریاض شہر کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو مار گرایا ہے۔
ترکی المالکی نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹ کیا ’فضائی دفاع نے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔‘
رات کے وقت ڈرون حملوں نے سنیچر کے روز شروع ہونے والے وسیع پیمانے کے حملوں کے سلسلے کو آگے بڑھایا جس کے دوران سعودی ایئر ڈیفنس بیٹریز نے طائف اور ینبع کو نشانہ بنانے والے دو بیلسٹک میزائل، ریاض کی طرف آنے والا ایک میزائل اور مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو تباہ کیا تھا۔
تازہ ترین حملوں کے باوجود حکام نے اتوار کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو جزوی طور پر دوبارہ کھولنے کے اقدامات کیے اور 10 اکتوبر کے حوثی حملے (جس میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے)کے دو ہفتے بعد محدود پروازیں بحال کر دیں۔
ایئرپورٹ حکام نے اعلان کیا کہ پروازوں کے لیے ٹرمینل 1 کو ملکی پروازوں کے لیے اور ٹرمینل 2 کو قومی ایئرلائنز کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے جبکہ مسافروں کو ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنے سفری شیڈول کی تصدیق کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسلام کے مقدس ترین مقامات کے سربراہ نے اتوار کو یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے مکہ اور مدینہ کی طرف بار بار کیے جانے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور خبردار ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments