دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز طالب علم رہنماؤں عمر خالد اور شرجیل امام کی تیسری درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔ یہ درخواست فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی کے فسادات کے پیچھے مبینہ بڑی سازش سے متعلق کیس میں دائر کی گئی تھی، جس میں ان پر انسدادِ دہشت گردی کے قانون (UAPA) کے تحت مقدمہ درج ہے۔
جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ پر مشتمل بنچ نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے اس حکم میں ترمیم نہیں کر سکتے جس میں دونوں ملزمان کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ یا تو تحفظ یافتہ گواہوں کے بیانات کی تکمیل کے بعد یا حکم کی تاریخ سے ایک سال مکمل ہونے کے بعد، جو بھی پہلے ہو، ضمانت کی درخواست دائر کریں۔ عدالت نے واضح کیا کہ وہ "عدالتی نظم و ضبط" کی پابند ہے اور عمر خالد اور شرجیل امام پر عائد کردہ شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتی۔
خالد اور امام پر ان الزامات کے تحت UAPA کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے کہ وہ ان فسادات کے مبینہ ماسٹر مائنڈز میں شامل تھے، جن کے نتیجے میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
یہ تشدد شہریت ترمیم قانون (CAA)، 2019 اور قومی شہریت رجسٹر (NRC) کے خلاف احتجاج کے دوران بھڑکا تھا۔
اس مبینہ سازش کے کیس میں سرگرم کارکن خالد سیفی اور عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین سمیت دیگر افراد پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس کی تحقیقات دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے کی ہے۔
خالد اور امام نے اس سال کے شروع میں ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جب ٹرائل کورٹ نے 4 جولائی کو ان کی ضمانت کی درخواستیں تیسری بار مسترد کر دی تھیں۔
اس کیس میں شرجیل امام کو 25 اگست 2020 کو جبکہ عمر خالد کو 13 ستمبر 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا۔
دہلی پولیس نے ان کی درخواستِ ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ دونوں فسادات کے "ماسٹر مائنڈ" تھے۔
دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز طالب علم رہنماؤں عمر خالد اور شرجیل امام کی تیسری درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔ یہ درخواست فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی کے فسادات کے پیچھے مبینہ بڑی ساز...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments