باکسہ پہنچ گئی بہار کی شیرنی، پنجرے میں خوش مزاج نظر آئی زرد دھاریوں والی بلی
بہار سے شیرنی شمالی بنگال کے باکسہ پہنچ گئی۔ بدھ کی صبح سے ہی باکسہ میں تیاریاں عروج پر ہیں۔ جانوروں کے ڈاکٹروں نے شیرنی کا طبی معائنہ کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہے۔ منگل کو بہار کے والمیکی ٹائیگر ریزرو میں بے ہوشی کی گولی دے کر تین سالہ شیرنی کو قابو کیا گیا تھا۔ مقررہ وقت پر اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس وقت وہ باکسہ ٹائیگر ریزرو فاریسٹ کے ایک مخصوص مقام پر پنجرے میں ہے۔ اطلاع ہے کہ اس نے مناسب مقدار میں کھانا پینا بھی کیا ہے۔
محکمہ جنگلات کے ذرائع کے مطابق شیرنی کو قابو کرنے کے بعد اس کے گلے میں ریڈیو کالر لگایا گیا اور اسے پنجرے میں بند کیا گیا۔ رات ہی میں اسے بہار سے کارگو طیارے کے ذریعے ہاشیمارا فضائی اڈے تک لایا گیا۔ وہاں سے سڑک کے راستے شیرنی کو باکسہ ٹائیگر ریزرو کے جنگل میں پہنچایا گیا۔ ریاست کے جنگلات کے وزیر منوج کمار اوراو¿ں پورے معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ افسران باکسہ میں موجود ہیں۔ نئی رہائشی کا استقبال کرنے کے لیے علاقے میں کئی کٹ آو¿ٹ لگائے گئے ہیں۔ متعدد مقامات پر ’دی کنگ ریٹرنز ٹو باکسہ‘ کے ہورڈنگز بھی لگائے گئے ہیں۔
شیرنی کو لائے جانے کی خبر مقامی باشندوں کو پہلے ہی مل گئی تھی۔ سڑک کے دونوں جانب لوگ کھڑے تھے۔ ایمبولینس میں موجود پنجرے میں بند شیرنی کو دیکھنے کے لیے لوگ جھانک رہے تھے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے محکمہ جنگلات اور پولیس کی جانب سے سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ آئندہ 2 اکتوبر کو اس شیرنی کو باکسہ ٹائیگر ریزرو کے جنگل میں چھوڑا جائے گا۔ اسی روز علی پور دوار شہر کے پریڈ گراو¿نڈ میں شیرنی کو جنگل میں چھوڑنے کی تقریب منعقد ہوگی، جس میں وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر جنگلات کی موجودگی متوقع ہے۔
لیکن اس شیرنی کو بہار سے ہی کیوں لایا گیا؟ افسران نے بتایا کہ بہار اور بنگال کے موسم میں کافی مماثلت ہے۔ اس لیے شیرنی باکسہ کو اپنا گھر ہی سمجھے گی۔ ماحول سے مطابقت پیدا کرنے میں بھی اسے زیادہ دشواری نہیں ہوگی۔ باکسہ میں شیروں کے لیے تقریباً 2 ایکڑ زمین پر ایک انکلوڑر تیار کیا گیا ہے۔ اسے اسی انکلوڑر میں چھوڑا جائے گا۔ 2 اکتوبر کو انکلوڑر کا دروازہ کھولنے کے بعد شیرنی جنگل میں آزاد ہوجائے گی۔ محکمہ جنگلات اس کی ویڈیو 2 اکتوبر کی تقریب میں دکھائے گا۔
شیرنی کی نگرانی کے لیے جلداپارہ نیشنل پارک سے تین ک±نکی ہاتھی بھی پہلے ہی باکسہ لائے جاچکے ہیں۔ نگرانی کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ پورے باکسہ ٹائیگر ریزرو کے جنگلات کو ڈبل ویڑن کیمروں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔
باکسہ پہنچ گئی بہار کی شیرنی، پنجرے میں خوش مزاج نظر آئی زرد دھاریوں والی بلی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments