کلکتہ لیگ میں حالیہ برسوں میں ایسا سنسنی خیز اور ڈرامائی فائنل شاذ و نادر ہی دیکھا گیا ہو۔ ٹرافی جیتنے کی دوڑ میں پانچ ٹیمیں میدان میں تھیں، جن میں تینوں بڑے کلبوں کے علاوہ بھوانی پور اور یونائیٹڈ اسپورٹس بھی مضبوطی سے شامل تھے۔ لیکن سب کی نظریں باراسات اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے موہن بگان اور محمڈن اسپورٹنگ کے درمیانی میچ پر مرکوز تھیں، کیونکہ ٹورنامنٹ کا سارا حساب کتاب اسی میچ کے نتائج پر منحصر تھا۔ اس میچ میں ریڈ کارڈز، پنالٹی اور گولز کی برسات — غرض کون سا ڈراما نہیں تھا جو اس میدان میں نہ ہوا ہو! تاہم، میچ میں پچھڑنے کے باوجود 10 کھلاڑیوں پر مشتمل موہن بگان نے شاندار کم بیک کیا اور محمڈن کو 3-2 سے شکست دے کر 8 سال بعد کلکتہ لیگ کا تاج اپنے سر پر سجا لیا۔
موہن بگان کے کوچ پرکاش رائے کے لڑکے شروع سے ہی گول کرنے کے لیے بے قرار نظر آئے۔ ایک کے بعد ایک حملے کیے گئے اور گول کے مواقع بھی بار بار پیدا ہوئے، لیکن گیند کو جال تک پہنچانا آسان نہیں تھا۔ میچ کے 7ویں منٹ میں ہی ساحل کے سامنے گول کرنے کا سنہری موقع آیا، لیکن محمڈن کے گول کیپر نے خطرہ ٹال دیا۔ دو منٹ بعد ایک اور موقع ملا جب کیان ناصری نے گیند کو لے کر اٹیکنگ تھرڈ میں شاندار کراس بڑھایا۔ ساحل نے گیند ملتے ہی شٹ مارا، لیکن اس میں مطلوبہ طاقت نہیں تھی اور موقع ضائع ہو گیا۔ 16ویں منٹ میں ایک بار پھر ساحل کے پاس گول کا موقع تھا؛ بائیں جانب سے آنے والے کراس پر صرف پاو¿ں لگانا باقی تھا، لیکن وہاں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ 19ویں منٹ میں محمڈن نے پریسنگ فٹ بال کا مظاہرہ کرتے ہوئے دباو¿ بڑھانے کی کوشش کی۔ بالآخر 26ویں منٹ میں سبز و مہرون (موہن بگان) نے ڈیڈ لاک توڑ ہی ڈالا۔ لالینزو¿الا چھانگتے کے نپا تولے کراس پر ساحل نے شاندار ہیڈر کے ذریعے گیند کو جال میں پہنچا کر ٹیم کو برتری دلادی۔
تاہم، پہلے ہاف کے اختتام تک میچ کا نقشہ بدل گیا۔ 42ویں منٹ میں جوابی حملے کرتے ہوئے محمڈن نے اسکور برابر کر دیا۔ تھانگ کھیما کو روکنے کے لیے موہن بگان کے متعدد ڈیفنڈرز آگے بڑھ آئے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تھانگ کھیما نے دائیں جانب موجود لال ریمسانگا کو پاس دے دیا۔ موہن بگان کے کھلاڑی پیچھے سے دوڑے لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی، اور لال ریمسانگا نے دائیں پاو¿ں کے طاقتور شاٹ سے دیپ پربھات کو چکمہ دے کر گیند کو گول پوسٹ میں ڈال دیا۔ یوں 1-1 کے اسکور کے ساتھ دونوں ٹیمیں ہاف ٹائم پر گئیں۔
دوسرے ہاف کے آغاز میں ہی موہن بگان کے کوچ نے دیپک ٹانگری کی جگہ ابھیشیک سنگھ کو میدان میں اتارا۔ 54ویں منٹ میں موہن بگان کے پاس دوبارہ برتری حاصل کرنے کا بہترین موقع آیا، جب دائیں طرف سے آنے والے کراس کو کیان ناصری آسانی سے ہیڈر کے ذریعے گول میں بدل سکتے تھے، لیکن وہ گیند کو دوسری سمت میں موڑ بیٹھے۔ 59ویں منٹ میں لال ریمسانگا گیند لے کر موہن بگان کے باکس میں گھس گئے اور گول کیپر دیپ پربھات کو ڈبل کر کے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران بگان کے گول کیپر نے انہیں گرا دیا۔ ریفری نے فوراًا پینالٹی کا اشارہ دیا اور دیپ پربھات کو براہ راست ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر کر دیا۔ گول کیپر کی غیر موجودگی میں زاہد کو دفاع سنبھالنے کے لیے اتارا گیا۔
63ویں منٹ میں پینالٹی پر گول کرتے ہوئے موہتوش رائے نے محمڈن کو 2-1 کی برتری دلادی۔ اس وقت ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میچ پوری طرح محمڈن کے حق میں جھک چکا ہے۔ لیکن 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل رہی موہن بگان کی ٹیم نے ہار نہیں مانی۔ 70ویں منٹ میں ساحل نے ایک اور شاندار گول کر کے اسکور 2-2 سے برابر کر دیا۔
اس کے محض تین منٹ بعد میچ کا رنگ ہی پلٹ گیا۔ 73ویں منٹ میں سیان بنرجیکے گول نے موہن بگان کو 3-2 کی برتری دلا دی۔ ایک کے بعد ایک ڈرامائی موڑ عبور کرتے ہوئے اس سنسنی خیز مقابلے کو جیتنے کے بعد موہن بگان نے اس سیزن کی پہلی ٹرافی اپنے نام کرلی۔
موہن بگان کی اس فتح کے بعد لیگ کے باقی میچوں کے نتائج پر نظر رکھنے کی کوئی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔ واضح رہے کہ ایسٹ بنگال نے کول انڈیا کو 7 گول سے شکست دینے کے باوجود لیگ چمپئن بننے کا خواب پورا نہ کر سکی، جب کہ بھوانی پور اور یونائیٹڈ اسپورٹس کا میچ بغیر کسی گول کے ڈرا پر ختم ہوا۔
کلکتہ لیگ میں حالیہ برسوں میں ایسا سنسنی خیز اور ڈرامائی فائنل شاذ و نادر ہی دیکھا گیا ہو۔ ٹرافی جیتنے کی دوڑ میں پانچ ٹیمیں میدان میں تھیں، جن میں تینوں بڑے کلبوں کے علاوہ بھوانی ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments