Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

اندرا کر پائی تھیں، اقتدار اور پارٹی سب کچھ کھونے کے بعد ’بے سروسامان‘ ممتا کیا دوبارہ کھڑی ہو پائیں گی؟

Admin
By Admin
Sep 19, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BAGRESHWAR BABA KI TASVEER JALANE PAR CM SUVENDU ADHIKARI SAKHT, KOLKATA POLICE KO ARRSTE KA DIYA HUKM

اندرا کر پائی تھیں، اقتدار اور پارٹی سب کچھ کھونے کے بعد ’بے سروسامان‘ ممتا کیا دوبارہ کھڑی ہو پائیں گی؟
اندرا کر پائی تھیں، اقتدار اور پارٹی سب کچھ کھونے کے بعد ’بے سروسامان‘ ممتا کیا دوبارہ کھڑی ہو پائیں گی؟ — September 19, 2026
اندرا کر پائی تھیں، اقتدار اور پارٹی سب کچھ کھونے کے بعد ’بے سروسامان‘ ممتا کیا دوبارہ کھڑی ہو پائیں گی؟
ممتا کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اندرا جس نظریے اور وراثت کو بنیاد بنا کر دوبارہ اقتدار میں واپس آئی تھیں، وہ ممتا کے پاس نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، اگرچہ اندرا گاندھی بھی ایک آمرانہ انداز میں پارٹی چلاتی تھیں، لیکن ان کے دور میں کانگریس کبھی بھی ’پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی‘ نہیں بنی۔
اندرا گاندھی اور ممتا بنرجی۔ اگر ہندوستانی سیاست کی کامیاب ترین خواتین سیاست دانوں کی فہرست بنائی جائے تو سب سے پہلے جن ناموں کا ذکر ہوگا، ان میں بلاشبہ یہ دونوں شامل ہوں گی۔ دونوں کی سیاسی زندگی میں بھی کئی حیرت انگیز مماثلتیں ہیں۔ اپنی سیاسی زندگی میں دونوں خواتین نے ہزاروں رکاوٹوں کو عبور کیا۔ دونوں انتہائی کامیاب اور بااثر رہیں۔ لیکن اولاد سے محبت نے دونوں کو شدید مشکلات میں بھی ڈالا۔ اندرا گاندھی کو اپنے بیٹے سنجے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ممتا کو بھتیجے ابھیشیک کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب اندرا گاندھی نے اپنا سب کچھ کھو دیا تھا اور بے سروسامان ہوگئی تھیں، حتیٰ کہ انہیں اپنی ہی پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ آج ممتا بھی تقریباً اسی طرح کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جس طرح اندرا گاندھی نے گہری کھائی کے کنارے سے جدوجہد کرتے ہوئے سیاسی واپسی کی تھی، کیا ممتا بھی ایسا کر پائیں گی؟
اندرا گاندھی کو دو مرتبہ اپنی پارٹی سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی مرتبہ 1969 میں اور دوسری مرتبہ 1977 کے انتخابات میں کانگریس کی بدترین شکست کے بعد انہیں اپنی نئی پارٹی میں بھی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں مرتبہ انہوں نے سیاسی واپسی کی۔
1969 میں پہلی مرتبہ اندرا گاندھی کانگریس کی طاقتور ’سِنڈیکیٹ‘ قیادت کے ساتھ براہِ راست تصادم میں آگئی تھیں۔ صدارتی انتخاب میں امیدوار نیلم سنجیو ریڈی کے بجائے انہوں نے اس وقت کے نائب صدر وی وی گری کی حمایت کی۔ انہوں نے ارکانِ پارلیمنٹ اور ارکانِ اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دیں۔ آخرکار وی وی گری کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد کانگریس صدر ایس نجالنگپا نے اندرا گاندھی کو پارٹی سے نکال دیا۔ کانگریس تقسیم ہوگئی اور کانگریس (آر) اور کانگریس (او) وجود میں آئیں۔
پارٹی کے اندر مخالفت کے باوجود اندرا گاندھی پیچھے نہیں ہٹیں بلکہ انہوں نے خود کو عام لوگوں کی رہنما کے طور پر پیش کیا۔ 1971 کے لوک سبھا انتخابات میں ’غریبی ہٹاو¿‘ کے نعرے کو سامنے رکھتے ہوئے وہ تقریباً ذاتی سیاسی جنگ میں اتر گئیں۔ اس انتخاب میں کانگریس (آر) نے زبردست کامیابی حاصل کی۔
1978 میں اندرا گاندھی کو ایک مرتبہ پھر پارٹی سے محروم ہونا پڑا۔ ایمرجنسی کے بعد اپنی الگ سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے کانگریس نے انہیں دوبارہ پارٹی سے نکال دیا۔ اس مرتبہ اندرا گاندھی نے کانگریس (آئی) تشکیل دی۔ 1980 کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس (آئی) دوبارہ اقتدار میں آگئی۔
اندرا گاندھی کی ان دو سیاسی واپسیوں کے پیچھے کئی عوامل تھے۔ ایک، ان کی ’آئرن لیڈی‘ کی شبیہ۔ دوسرا، براہِ راست بدعنوانی کے الزامات سے دور رہنا۔ تیسرا، عوام کے درمیان جاکر کام کرنے کا رجحان۔ چوتھا، اولاد کی محبت سے اوپر اٹھنا، سنجے گاندھی کے سیاسی اثر و رسوخ کو کم کرنا اور پھر سنجے کی اچانک موت۔ رہنما پر انحصار کے بجائے عام عوام پر اعتماد کرنا۔ دراصل سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی عام لوگوں میں ہمیشہ مقبول رہی تھیں۔

اندرا کر پائی تھیں، اقتدار اور پارٹی سب کچھ کھونے کے بعد ’بے سروسامان‘ ممتا کیا دوبارہ کھڑی ہو پائیں گی؟...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn