Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

سوری کی آخری دکان پر بھی تالا، روایت کی پٹکٹی، چاندیال، موم بتی اور بگّا کی پتنگوں کی لڑائی معدوم ہونے کے قریب

Admin
By Admin
Sep 19, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

سوری کی آخری دکان پر بھی تالا، روایت کی پٹکٹی، چاندیال، موم بتی اور بگّا کی پتنگوں کی لڑائی معدوم ہونے کے قریب
سوری کی آخری دکان پر بھی تالا، روایت کی پٹکٹی، چاندیال، موم بتی اور بگّا کی پتنگوں کی لڑائی معدوم ہونے کے قریب — September 19, 2026
سوری کی آخری دکان پر بھی تالا، روایت کی پٹکٹی، چاندیال، موم بتی اور بگّا کی پتنگوں کی لڑائی معدوم ہونے کے قریب
محلے کے چوراہوں پر پٹکٹی، چاندیال، موم بتی، بگّا جیسی مختلف اقسام کی پتنگیں ملتی تھیں۔ اب دکانوں کی تعداد تقریباً صفر ہو چکی ہے۔
میوراکشی اور اجے ندی کے کنارے۔ وشوکرما پوجا کے دن دونوں دریاو¿ں کے کنارے کا آسمان ہزاروں رنگوں کی پتنگوں سے بھر جاتا تھا۔ ایک کے بعد ایک پتنگوں کی لڑائی ہوتی تھی۔ جیسے ہی کسی پتنگ کی ڈور کاٹ کر اسے زمین پر گرا دیا جاتا، ’ووکٹا‘ کی چیخیں بلند ہوتیں۔ ان مقابلوں کے پیچھے ہیتھم پور کے شاہی خاندان، راج نگر کے نواب خاندان اور بیربھوم کے مختلف خوشحال دیہات کے زمیندار خاندانوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ ضلع کے بہترین پتنگ بازوں کو بھاری رقم کے انعامات دیے جاتے تھے۔ اس طرح پتنگ اڑانا محض تفریح نہیں رہا تھا، بلکہ بیربھوم کی سماجی اور ثقافتی روایت کا بھی حصہ بن گیا تھا۔
زمینداری نظام کے خاتمے کے ساتھ یہ سرپرستی بھی ختم ہو گئی۔ اس کے باوجود پتنگوں کی لڑائی ایک ہی دن میں بند نہیں ہوئی۔ طویل عرصے تک دریاوں کے کنارے مقابلے ہوتے رہے۔ بعد میں دریاوں کے کناروں کو چھوڑ کر یہ لڑائیاں پکے مکانوں کی چھتوں پر منتقل ہو گئیں۔ ماحول بدلا، شرکائ کی شناخت بدلی، لیکن وشوکرما پوجا کے موقع پر پتنگ اڑانے کا شوق برقرار رہا۔ اب اس روایت کا آخری حصہ بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔
وشوکرما پوجا کے موقع پر سوری کے ضلع صدر مقام کی واحد پتنگ کی دکان بھی بند ہے۔ ایک وقت تھا جب ضلع کے مختلف علاقوں میں پتنگوں کی دکانیں لگتی تھیں۔ محلے کے چوراہوں پر پٹکٹی، چاندیال، موم بتی، بگّا جیسی مختلف اقسام کی پتنگیں دستیاب ہوتی تھیں۔ اب دکانوں کی تعداد تقریباً صفر ہو چکی ہے۔ نئی نسل کو متوجہ کرنے کے لیے بازار میں پلاسٹک کی پتنگیں بھی آئی تھیں۔ ان پر چھوٹا بھیم، مکی ماوس، ٹام اینڈ جیری جیسے کارٹون کرداروں کی تصاویر بنی ہوتی تھیں۔
فروخت کنندگان کا دعویٰ ہے کہ معمولی فروخت کا بڑا حصہ انہی پتنگوں کا ہوتا ہے۔ والدین انہیں خرید کر تو دے دیتے ہیں، لیکن پتنگ اڑانے کا طریقہ سکھانے والے لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں۔ موبائل اور ڈیجیٹل تفریح کے دور میں اسی لیے چھت پر کھڑے ہو کر ڈور کھینچنے اور پتنگ اڑانے کی خوشی بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ سوری کی آخری پتنگ کی دکان کا بند دروازہ جیسے اس گزرے ہوئے وقت کی ہی علامت بن گیا ہے۔

سوری کی آخری دکان پر بھی تالا، روایت کی پٹکٹی، چاندیال، موم بتی اور بگّا کی پتنگوں کی لڑائی معدوم ہونے کے قریب...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn