کانگریس نے خلائی پروگرام میں جارحانہ طریقے سے بڑھتی ہوئی نجکاری پر اپنی شدید فکر کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تفصیلی پوسٹ جاری کی ہے۔ اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’گزشتہ کچھ دنوں میں ہمارے ملک کے خلائی پروگرام میں اِسرو کے مستقبل کے کردار سے متعلق کئی خبریں سامنے آئی ہیں۔ گزشتہ 6 دہائیوں میں وکرم سارابھائی، ستیش دھون، برھم پرکاش، یو آر راؤ، اے پی جے عبدالکلام اور کئی دیگر معروف سائنسدانوں اور ٹیکنالوجسٹس کی دور اندیشی، خود سپردگی اور قیادت کی بدولت اسرو نے جس منصوبہ بند و سخت محنت سے اپنی صلاحیت، قابلیت اور اہلیت تیار کی ہے، اسے دیکھتے ہوئے ان خبروں نے جواب فکریں پیدا کی ہیں۔‘‘
اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں جئے رام رمیش آگے لکھتے ہیں کہ ’’یہ پوری طرح واضح ہے کہ جوہری توانائی اور خلائی پروگرام کو لے کر بھی مودی حکومت کا جارحانہ نجکاری والا ایجنڈا ہے۔ صاف ہے کہ اس کی ترغیب خود وزیر اعظم اور ان کے پی ایم او سے آ رہی ہے۔‘‘ انھوں نے اس بات پر بھی فکر ظاہر کی کہ ’’راکیٹ کے ڈیولپمنٹ اور مینوفیکچرنگ میں اِسرو کے کردار کو کافی محدود کرنے کی تیاری ہے اور سیٹلائٹ سے جڑی بیشتر چیزوں کو پوری طرح پرائیویٹ کمپنیوں کو سونپا جانا ہے۔ تمل ناڈو میں بن رہے دوسرے اسپیس پورٹ کو بھی ایک پرائیویٹ کمپنی کو سونپا جائے گا، جس پر اِسرو تقریباً 1000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’تبدیلی کی اس ہوا کے درمیان آندھرا پردیش کے تاریخی شری ہری کوٹا اسپیس پورٹ کا مستقبل کیا ہوگا، اس کا بھی صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔‘‘
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری نے لکھا ہے کہ ’’اِسرو نے ہندوستان کو کئی فخر کے مواقع دیے ہیں اور وزیر اعظم خود بھی کئی مواقع پر اس کی حصولیابیوں کی داستان میں اپنی شراکت داری ظاہر کرتے رہے ہیں۔ اسپیس اسٹارٹ اَپس کو یقینی طور سے حوصلہ افزائی اور حمایت ملنی چاہیے، لیکن اِسرو (جس کی طویل مدت سے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مفید اور کامیاب شراکت داری رہی ہے) کو اب کمزور کیوں کیا جا رہا ہے؟‘‘ وہ بتاتے ہیں کہ گزشتہ کچھ مہینوں میں ہی اسرو کے 100 سے 120 اہم پروفیشنلز ملازمت چھوڑ چکے ہیں، شاید انھیں آنے والے حالات کا اندازہ ہو گیا ہے۔
اس سوشل میڈیا پوسٹ میں جئے رام رمیش نے اِسرو کے سابق چیئرمین کی تشویش کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’یہ غور کرنے والی بات ہے کہ اِسرو کے ایک مشہور سابق چیئرمین، جو وزیر اعظم سے متاثر ہو کر اکتوبر 2018 میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے، انھوں نے بھی اِسرو سے متعلق نجکاری کی اس نئی مہم کو لے کر سنگین شبہات ظاہر کیے ہیں۔‘‘ وہ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اِسرو کے باحیات 5 دیگر مشہور سابق چیئرمین اس بے حد اہم ایشو پر اپنی بات کیوں نہیں رکھتے؟
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments