دہرادون: حکومتِ اتراکھنڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام مدارس، جنہیں اب ریاستی محکمہ تعلیم کی جانب سے 'اسکول' کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے، محکمے کے قواعد و ضوابط کے مطابق جمعہ کے بجائے اتوار کو ہفتہ وار چھٹی منائیں گے۔ اتراکھنڈ میں نمازِ جمعہ کی وجہ سے اب تک مدارس کے لیے جمعہ کا دن ہفتہ وار تعطیل کے طور پر مقرر تھا۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہاکہ "ہم خوشامد پر مبنی کوئی تعلیمی پالیسی نہیں چاہتے۔ ہماری حکومت نے تمام بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پالیسیاں، قواعد اور قوانین بنائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو ادارے ان پر عمل نہیں کریں گے انہیں یہاں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔" جمعہ کی تعطیل ختم کرنے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ دھامی نے کہا کہ چونکہ اب مدارس محکمہ تعلیم کے تسلیم شدہ اسکول بن چکے ہیں، اس لیے ریاست کے تمام تعلیمی اداروں پر یکساں قوانین لاگو ہوتے ہیں۔ اتراکھنڈ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی کے چیئرمین سرجیت سنگھ گاندھی نے کہاکہ "پشکر سنگھ دھامی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کی وضع کردہ یکساں تعلیمی پالیسی ریاست کے تمام اقلیتی اسکولوں پر لاگو ہوگی۔ رجسٹرڈ مدارس اب اسکول بن چکے ہیں، لہٰذا انہیں محکمہ تعلیم اور اتراکھنڈ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی کے ضوابط کو اپنانا ہوگا۔ اب سے ہفتہ وار تعطیل جمعہ کے بجائے اتوار کو ہوگی۔"
دھامی حکومت نے اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کو ختم کر کے اقلیتی تعلیمی بورڈ قائم کیا ہے، جس کے تحت مسلم، سکھ، پارسی، جین اور بودھ برادریوں کے تمام تعلیمی اداروں کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ریاست کے اقلیتی مدرسہ فریم ورک کے تحت 452 تسلیم شدہ مدارس موجود تھے، جن میں سے نئے سرے سے درخواستیں دینے والے 76 مدارس کو اب اتھارٹی کی جانب سے 'اسکول' کے طور پر منظوری دی گئی ہے۔ ان مدارس میں تقریباً 30,000 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ دھامی حکومت نے اب ان طلبہ کے لیے قومی نصاب لاگو کرنے پر زور دیا ہے۔ دیگر 114 مدارس کی درخواستیں اس وقت محکمہ تعلیم کے پاس زیر التوا ہیں۔
دہرادون: حکومتِ اتراکھنڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام مدارس، جنہیں اب ریاستی محکمہ تعلیم کی جانب سے 'اسکول' کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے، محکمے کے قواعد و ضوابط کے مطابق جمعہ کے بجائے ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments