متحدہ عرب امارات نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے دوران پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پرواز راستہ تبدیل کرنے کے بعد سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر اتاری گئی تھی۔
اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق یو اے ای کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد الشمسی نے سرکاری ماہرین استغاثہ پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے جو واقعے کے اسباب اور حالات کی تحقیقات کرے گی۔
امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فلائی دبئی کے مطابق کاک پٹ میں جھڑپ یا کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوئی تھی، جس کے بعد طیارے میں سفر کرنے والے عملے کے ارکان نے مداخلت کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پایا۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ چونکہ طیارہ متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ ہے اور اماراتی پرچم کے تحت چلتا ہے، اس لیے یو اے ای کے عدالتی حکام کو اس واقعے کی تحقیقات کا اختیار حاصل ہے۔
بیان کے مطابق اماراتی قانون کے تحت طیارے میں ہونے والے جرائم پر یو اے ای کا قانون لاگو ہوتا ہے، خواہ وہ ملک کی حدود سے باہر ہی کیوں نہ پیش آئے ہوں۔
وزارت نے کہا کہ تحقیقات میں واقعے کے تمام محرکات اور حالات کا جائزہ لیا جائے گا، جن میں شدت پسندی سے ممکنہ تعلق اور پیشگی منصوبہ بندی یا کسی کی ہدایات کے تحت کارروائی کے امکانات بھی شامل ہیں۔
بیان میں سعودی حکام کے تعاون اور واقعے سے نمٹنے کی کوششوں کو بھی سراہا گیا اور عوام سے اپیل کی گئی کہ تحقیقات مکمل ہونے اور نتائج جاری ہونے تک صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات یا قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔
متحدہ عرب امارات نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے دوران پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پرواز راستہ تبدیل کرنے کے بعد سع...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments