فی الحال رن وے کے قریب نماز پر پابندی، 7 اکتوبر کو ہائی کورٹ میں بانکرہ مسجد معاملے کی اگلی سماعت
سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہوائی اڈے کے احاطے میں واقع بانکرہ مسجد میں پہلے ہی نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس معاملے میں کولکاتا ہائی کورٹ میں دائر مقدمے کی سماعت کے دوران درخواست گزار، ایئرپورٹ اتھارٹی اور مرکز کی جانب سے زوردار دلائل پیش کیے گئے۔ تاہم تمام دلائل سننے کے باوجود جسٹس کرشنا راو¿ کی بنچ نے آج کوئی حکم جاری نہیں کیا۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 7 اکتوبر کو ہوگی۔ اس دن عدالت اس سلسلے میں کوئی حکم جاری کر سکتی ہے۔ تاہم اس وقت تک مسجد میں نماز کی ادائیگی بند رہے گی۔
آج درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل کشور دت نے بحث کی۔ دوسری جانب ایئرپورٹ اتھارٹی کی طرف سے وکیل گوپال مکھرجی پیش ہوئے۔ کشور دت نے بتایا کہ رن وے کے قریب واقع بانکرہ مسجد کی زمین کو پہلے ہی ہوائی اڈے کے احاطے کی توسیع کے لیے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم 11 جولائی کو اچانک وہاں نماز کی ادائیگی مکمل طور پر روک دی گئی۔ ہوائی اڈے کے اندر سے مسجد تک جانے کے لیے جاری کیے جانے والے انٹری پاس بھی بند کر دیے گئے۔ کئی برسوں سے اس مسجد میں نماز ادا کی جاتی رہی ہے، لیکن اچانک نماز پر پابندی لگا دی گئی۔ کشور دت نے سوال اٹھایا کہ اگر مسجد کی زمین ہوائی اڈے کی توسیع کے لیے حاصل کی جانی تھی تو اب تک اسے حاصل کیوں نہیں کیا گیا؟
اس کے بعد عدالت نے سوال کیا کہ مستقل حکمِ امتناعی حاصل کرنے کے لیے درخواست گزار نچلی عدالت سے رجوع کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ اس پر کشور دت نے بانکرہ مسجد تک آنے جانے کے لیے متبادل راستے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسجد میں مکمل طور پر نماز بند کر دینا آئین کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے برسوں کے دوران کبھی ہوائی اڈے کی سکیورٹی متاثر نہیں ہوئی، تو اب اس معاملے پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے؟ اسی بنیاد پر انہوں نے مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر رجسٹریشن کا انتظام کیا جا سکتا ہے اور مسجد میں داخلے کے وقت آنے والے افراد کے نام درج کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایئرپورٹ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ اگر نماز کی اجازت دی گئی تو لوگ ہوائی اڈے کے رن وے کے قریب داخل ہو سکتے ہیں۔ اس سے ہوائی اڈے کی سکیورٹی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ وکیل گوپال مکھرجی نے اسے قومی سلامتی کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ دونوں فریقوں کے مکمل دلائل سنے بغیر کوئی عبوری حکم جاری نہ کیا جائے۔
دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد جسٹس نے اس معاملے کی اگلی سماعت 7 اکتوبر کو مقرر کر دی۔واضح رہے کہ 136 سال پرانی گوری پور جامع مسجد ’بانکرہ مسجد‘ کے نام سے معروف ہے۔ یہ مسجد ہوائی اڈے کے احاطے کے اندر واقع ہے۔ طویل عرصے سے مسجد کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے معاملے پر بحث جاری تھی۔ حال ہی میں وہاں نماز کی ادائیگی روک دی گئی، جس کے بعد معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچا۔ فی الحال ہائی کورٹ نے اس معاملے میں مداخلت نہیں کی ہے۔ اگلی سماعت 7 اکتوبر کو ہوگی۔
فی الحال رن وے کے قریب نماز پر پابندی، 7 اکتوبر کو ہائی کورٹ میں بانکرہ مسجد معاملے کی اگلی سماعت...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments