ریتو-ترنمول کی انتخابی مہم میں چاکلیٹ اٹھاتے ہوئے بچی کی موت، وزیراعلیٰ متاثرہ خاندان کے گھر پہنچے
ریت برت کی قیادت والی ترنمول کی انتخابی مہم کی گاڑی سے پھینکی گئی چاکلیٹ اٹھانے کے دوران 6 سالہ بچی کی موت ہوگئی تھی۔ آج جمعرات کو خود وزیراعلیٰ شویندو ادھیکاری مرشدآباد کے ریجینگر میں نابالغہ کے گھر پہنچے۔ انہوں نے اہل خانہ سے ملاقات کرکے بات چیت کی اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
آئندہ 6 اکتوبر کو نندی گرام اور ریجینگر اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ کچھ دن قبل جمہوری ترنمول کانگریس (ریت برت گروپ) ریجینگر میں انتخابی مہم کے لیے گئی تھی۔ اس دوران مہم کی گاڑی سے چاکلیٹ پھینکی جا رہی تھی۔ لاو¿ڈ اسپیکر کی آواز سن کر 6 سالہ جاسمینا خاتون بھی وہاں پہنچ گئی تھی۔
الزام ہے کہ گاڑی سے پھینکی گئی چاکلیٹ اٹھانے کی کوشش کے دوران بچی زمین پر گر گئی۔ شدید زخمی ہونے کے بعد اسے پہلے بیلدانگا پرائمری ہیلتھ سینٹر لے جایا گیا۔ حالت بگڑنے پر اسے مرشدآباد میڈیکل کالج اینڈ اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد میں جاسمینا کو کولکاتا کے این آر ایس اسپتال منتقل کیا گیا۔ این آر ایس میں علاج کے دوران اتوار کو اس کی موت ہوگئی۔
آج جمعرات کو وزیراعلیٰ شویندو ادھیکاری مرشدآباد میں ضمنی انتخابات کی انتخابی مہم کے لیے پہنچے تھے۔ جلسے سے قبل وہ ریجینگر میں متوفی جاسمینا کے گھر گئے۔ انہوں نے اہل خانہ سے کافی دیر تک بات چیت کی اور واقعے کے دن پیش آنے والے حالات کے بارے میں دریافت کیا۔ وزیراعلیٰ نے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے رہنے کا یقین بھی دلایا۔
ریتو-ترنمول کی انتخابی مہم میں چاکلیٹ اٹھاتے ہوئے بچی کی موت، وزیراعلیٰ متاثرہ خاندان کے گھر پہنچے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments