Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

دارجلنگ کے پہاڑوں میں ’ہمالیائی مینڈک‘ کو دوہرا خطرہ، جلد معدوم ہونے کا خدشہ

Admin
By Admin
Oct 01, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

دارجلنگ کے پہاڑوں میں ’ہمالیائی مینڈک‘ کو دوہرا خطرہ، جلد معدوم ہونے کا خدشہ
دارجلنگ کے پہاڑوں میں ’ہمالیائی مینڈک‘ کو دوہرا خطرہ، جلد معدوم ہونے کا خدشہ — October 01, 2026
دارجلنگ کے پہاڑوں میں ’ہمالیائی مینڈک‘ کو دوہرا خطرہ، جلد معدوم ہونے کا خدشہ

پہاڑی ندیوں یا آبشاروں کے کنارے، چٹانوں کی دراڑوں سے کبھی کبھار جھانکنے والے یہ مینڈک برسات کے موسم میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ مقامی لوگ انہیں ’سِسنے پہا‘ یا ’سِسنے پا‘ کہتے ہیں۔ ان کا سائنسی نام ماربلڈ کیسکیڈ فراگ (Amolops marmoratus) ہے۔ دارجلنگ اور کالمپونگ کے پہاڑی علاقوں میں انتہائی معروف یہ مینڈک اب دوہرے خطرے سے دوچار ہیں۔ سائنس دانوں کو خدشہ ہے کہ یہ جلد ہی مکمل طور پر معدوم بھی ہو سکتے ہیں۔

اس مخصوص نسل کے ’ہمالیائی مینڈک‘ پر حال ہی میں 12 سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے تحقیق کی ہے۔ اس ٹیم میں کولکاتا یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی کے علاوہ انڈین زولوجیکل سروے (ZSI)، دارجلنگ کالج اور تملوک کالج کے سائنس دان شامل تھے۔ ماربلڈ کیسکیڈ فراگ کے ڈی این اے کا تجزیہ کرکے سائنس دانوں نے پایا کہ اگرچہ ایشیا کے مختلف علاقوں میں یہ مینڈک پائے جاتے ہیں، لیکن دارجلنگ سے متصل پہاڑی علاقوں میں پائی جانے والی اس نسل کی آبادی جینیاتی طور پر مکمل طور پر الگ تھلگ ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ان میں جینیاتی تنوع بھی سب سے کم ہے۔ حالیہ تحقیق کے نتائج بین الاقوامی سائنسی جریدے ’BMC Genomics‘ میں شائع ہوئے ہیں۔

سائنس دانوں نے دارجلنگ اور کالمپونگ کے پہاڑی علاقوں میں 57 مختلف مقامات سے ماربلڈ کیسکیڈ فراگ کے نمونے جمع کیے۔ 200 سے 2400 میٹر کی بلندی پر مختلف آبشاروں اور پہاڑی ندیوں کے کنارے سروے کیا گیا۔ تحقیقاتی ٹیم کو مجموعی طور پر 60 مینڈک نظر آئے، جن میں سے 35 کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا گیا۔ ZSI کے سائنس دان کوشک دیوتی نے اس نسل کی شناخت کی تصدیق کی۔

نمونوں کی جانچ کے لیے محققین نے دو جینز—16S RNA اور COI—کا استعمال کیا۔ دنیا کے دیگر علاقوں سے حاصل کیے گئے نمونوں کے ساتھ موازنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ دارجلنگ میں پائی جانے والی اس نسل میں جینیاتی تنوع سب سے کم ہے۔ میانمار، چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے بارانی جنگلات کے اطراف میں بھی یہ مینڈک پائے جاتے ہیں، لیکن وہاں ان میں جینیاتی تنوع کہیں زیادہ ہے۔ سائنس دانوں نے بتایا کہ چین اور دارجلنگ کی نسلوں کے درمیان جینیاتی فاصلہ سب سے زیادہ ہے۔

ڈی این اے کی معلومات کی بنیاد پر سائنس دانوں نے اس مخصوص نسل کے ارتقائی دور کا بھی تجزیہ کرنے کی کوشش کی۔ تقریباً 1.74 کروڑ سال پہلے ایشیا میں اس نسل کے آباو¿ اجداد موجود تھے۔ تقریباً 1.12 کروڑ سال پہلے جنوبی ایشیا کی نسل الگ ہوئی۔ اس کے بعد ماربلڈ کیسکیڈ فراگ کی نسل تقریباً 9.40 لاکھ سال پہلے دارجلنگ کے پہاڑی علاقوں میں پھیل گئی۔

جینیاتی تنوع کم ہونے کی وجہ سے دارجلنگ کے ان مینڈکوں کے معدوم ہونے کا خطرہ پہلے ہی دیگر آبادیوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ قدرتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق جینیاتی تنوع کم ہونے کی بنیادی وجہ جغرافیائی طور پر الگ تھلگ ہونا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ تاریخی عوامل بھی اس کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔

بنارس ہندو یونیورسٹی کے پروفیسر گیانیشور چوبے کے مطابق، ”جن جانوروں میں جینیاتی تنوع کم ہوتا ہے، وہ موسمیاتی تبدیلی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے اضافی خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔“

اس کے ساتھ ہی مقامی لوگوں کی غذائی عادات نے بھی ان مینڈکوں کے لیے خطرہ بڑھا دیا ہے۔ پہاڑی علاقوں کے بہت سے مقامی باشندے ان مینڈکوں کو کھاتے ہیں۔ ’سِسنے پہا‘ پہاڑی علاقوں میں ایک مقبول اور لذیذ خوراک سمجھا جاتا ہے۔ برسات کے موسم میں لوگ ندیوں کے کنارے اور چٹانوں کی دراڑوں سے ان مینڈکوں کا شکار کرتے ہیں، جس سے ان کی معدومیت کا خطرہ مزید بڑھ رہا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق ان مینڈکوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر قدرت کی یہ ایک اور تخلیق ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہے۔

دارجلنگ کے پہاڑوں میں ’ہمالیائی مینڈک‘ کو دوہرا خطرہ، جلد معدوم ہونے کا خدشہ...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn