جعلی ایس سی سرٹیفکیٹ کے معاملے میں اب پولیس کو فری ہینڈ
درج فہرست ذات (ایس سی) کا جعلی سرٹیفکیٹ تیار کرنے، حاصل کرنے اور اسے استعمال کرنے سے متعلق شکایات کے معاملے میں پولیس کی مداخلت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ بدھ کو اس سلسلے میں دائر ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کلکتہ ہائی کورٹ نے یہ بات واضح کی۔ جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے صاف طور پر کہا کہ اس طرح کے معاملات میں پولیس کے پاس شکایت درج کرانے اور پولیس کی جانب سے تفتیش کرنے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے۔
ت±مپا بسواس عرف ت±مپا رائے نامی ایک شخص نے اپنے خلاف بنگاو¿ں تھانے میں درج ایف آئی آر کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ درخواست گزار کا مو¿قف تھا کہ درج فہرست ذات کے سرٹیفکیٹ سے متعلق معاملے میں پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی، کیونکہ یہ معاملہ متعلقہ محکمہ کے دائر اختیار میں آتا ہے۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو تسلیم نہیں کیا۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ جعلی سرٹیفکیٹ تیار کرنے اور اسے استعمال کرکے فوائد حاصل کرنے کا الزام ایک فوجداری جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ قانون میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ اس طرح کی شکایت پولیس کے پاس درج نہیں کرائی جا سکتی۔ لہٰذا بنگاو¿ں تھانے میں درج کی گئی ایف آئی آر ابتدائی طور پر غیر قانونی نہیں ہے۔اسی بنیاد پر عدالت نے ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کردی اور پولیس کی تفتیش میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا۔
جعلی ایس سی سرٹیفکیٹ کے معاملے میں اب پولیس کو فری ہینڈ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments