امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین ایک ’انرجی سیز فائر‘ پر متفق ہو گئے ہیں۔ یعنی دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے نہیں کریں گے۔
کیئو کا کہنا ہے کہ وہ ایسے اقدام کی حمایت کرے گا، تاہم ماسکو نے تا حال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
امریکی صدر نے اصرار کیا کہ یہ جنگ بندی ’فوری طور پر‘ مؤثر ہو چکی ہے، تاہم انھوں نے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ابتدا میں اس اعلان پر حیرت کا اظہار کیا، لیکن بعد میں کہا کہ اگر ماسکو اس کی حمایت کرتا ہے تو کیئو بھی اس کی حمایت کرے گا۔
زیلنسکی نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس سے گفتگو میں کہا کہ انرجی سیز فائر کی اطلاع ان کے لیے ’خبر‘ تھی، قبل ازیں انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کے حکام ’روس کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات کی واضح تفصیلات کے منتظر ہیں۔‘
انھوں نے کہا: ’یوکرین روسی توانائی تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کے لیے تیار ہے اور ہم روس کی جانب سے بھی اسی طرح کی آمادگی کے منتظر ہیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین ایک ’انرجی سیز فائر‘ پر متفق ہو گئے ہیں۔ یعنی دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments