Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

’ووٹنگ کا حق خطرے میں‘، جسٹس اُجول بھوئیاں کے بعد جسٹس نریمن نے بھی کیا اظہارِ فکر

Admin
By Admin
Oct 05, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

’ووٹنگ کا حق خطرے میں‘، جسٹس اُجول بھوئیاں کے بعد جسٹس نریمن نے بھی کیا اظہارِ فکر
’ووٹنگ کا حق خطرے میں‘، جسٹس اُجول بھوئیاں کے بعد جسٹس نریمن نے بھی کیا اظہارِ فکر — October 05, 2026
ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف آواز اٹھنے کا سلسلہ دن بہ دن دراز ہوتا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن پر ووٹرز کے نام حذف کرنے اور ان کے حقِ رائے دہی کو نظر انداز کرنے کے الزامات نے گزشتہ کچھ دنوں میں سیاسی ہلچل کو خوب بڑھا دیا ہے۔ اس معاملے پر ججوں نے بھی آواز بلند کرنی شروع کر دی ہے۔ جسٹس اجول بھوئیاں کے بعد جسٹس روہنٹن فالی نریمن نے بھی ایس آئی آر معاملہ پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن فالی نریمن نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج پر فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ ایسا الیکشن کمیشن نہیں رکھ سکتے جو اس طرح کام کرے یا ٹھیک سے کام نہ کرے۔‘‘

جسٹس نریمن نے یہ تشویش ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام حذف کیے جانے اور ان رپورٹس کی بنیاد پر ظاہر کی، جن میں کہا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نے دیگر 2 الیکشن کمشنرز کے اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے کئی اہم فیصلے کیے۔ جسٹس نریمن نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں 90 لاکھ ووٹرز کے نام حذف کیے جانے کے باوجود سپریم کورٹ نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی پر روک لگانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔

جسٹس نریمن نے الیکشن کمشنرز کی تقرری کو مکمل طور پر موجودہ حکومت کے ہاتھوں میں چھوڑنے کو ’خطرے کی گھنٹی‘ (ریڈ فلیگ) قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس سے ووٹ دینے کا حق بہت بڑے خطرے میں پڑ گیا ہے۔ سپریم کورٹ کو ’چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ‘ کی قانونی حیثیت پر جلد از جلد فیصلہ کرنا چاہیے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس اجول بھوئیاں نے بھی ایس آئی آر معاملہ پر اٹھائے گئے سوالات کو فکر انگیز ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’مردہ ووٹر کے معاملے کو چھوڑ کر، ایک بار ووٹر لسٹ میں نام شامل ہو جانے کے بعد، بغیر نوٹس اور سماعت کے اسے حذف نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ووٹ دینے یا ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے حق کو ہندوستانی شہری کی شناخت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف آواز اٹھنے کا سلسلہ دن بہ دن دراز ہوتا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن پر ووٹرز کے نام حذف کرنے اور ان کے حقِ رائے دہی کو نظر انداز ک...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn