علاقائی حکام نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے فلائی دبئی کی اس پرواز کے مسافروں اور عملے کی فہرست اسرائیل کے ساتھ شیئر کی گئی تھی جس کو ایک پائلٹ نے تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس انکشاف کے بعد سکیورٹی کے نظام میں پائی جانے والی خامیوں پر مزید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ حملہ آور اس کے باوجود جہاز تک کیسے پہنچا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بعدازاں قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کو ہدایات جاری کیں کہ ’اسرائیل کے لیے غیر ملکی شہری ہوا بازی سے متعلق تمام حفاظتی پہلوؤں‘ کا جائزہ لینے کے لیے افسر مقرر کیا جائے۔
فلائی دبئی کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی طور پر سکیورٹی سے متعلق کئی بڑی خامیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔
حکام کی جانب سے پہلے ہی بتایا جا چکا ہے کہ عمان سے تعلق رکھنے والے پائلٹ کو اس لیے اپنے ملک میں پرواز کرنے سے روک دیا گیا تھا کیونکہ اس کے انتہاپسندانہ خیالات پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
تاہم یہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ عمان جیسے ملک جس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، کے شہری کو اسرائیلی مسافروں سے بھرے جہاز کو تل ابیب لے جانے کی اجازت کیسے دی گئی۔
اس واقعے کی یو اے ای کی سربراہی میں تحقیقات ہو رہی ہیں، اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ کو پائلٹ نے بدھ کو ساتھی کپتان پر حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔
حکام کی جانب سے واقعے کو ایک ’دہشت گردانہ حملہ‘ قرار دیا گیا ہے۔
طیارے پر 182 افراد سوار تھے اور وہ تباہ ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا تاہم انڈین کپتان زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب رہے جس کے بعد مسافروں اور عملے کے ارکان نے اندر جا کر حملہ آور کو قابو کر لیا۔
رپورٹ میں ایسے حکام کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے نام ظاہر نہیں کیا مگر بتایا کہ امارات کے حکام نے مسافروں اور عملے سے متعلق معلومات جن میں ان کی قومیت بھی شامل تھی، اسرائیل کے ساتھ شیئر کی تھیں اور اسرائیل کی جانب سے کسی مسافر یا عملے کے رکن کے بارے میں خطرے کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔
اسرائیل داخلی سکیورٹی ایجنسی شن بیت کا کہنا ہے کہ غیر ملکی پروازوں کے مسافروں کی فہرست کی جانچ کی ذمہ دار وزارت ٹرانسپورٹ ہے۔
وزیر ٹرانسپورت میری ریگو نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’پرواز کی سکیورٹی کی ذمہ داری سکیورٹی ادارے کی ہے اور وزارت کو مسافروں کی فہرست یا کسی ممکنہ خطرے سے متعلق کوئی وارننگ نہیں دی گئی۔
مسافروں کی فہرست شیئر کرنا ہوابازی کے عمل کا معمول کا طریقہ کار ہے تاہم وزارت ٹرانسپورٹ کے ایوی ایشن کے سربراہ ڈویر روبن سٹین نے آرمی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزارت مقامی سکیورٹی اداروں کی جانب سے ہونے والی جانچ پر انحصار کرتی ہے اور اس کے پاس ہر پرواز کے ہر مسافر کی مکمل جانچ کے لیے ضروری وسائل اور صلاحت موجود نہیں ہے۔
علاقائی حکام نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے فلائی دبئی کی اس پرواز کے مسافروں اور عملے کی فہرست اسرائیل کے ساتھ شیئر کی گئی تھی جس کو ایک پائلٹ نے تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments