الجزائر نے ’اشتعال انگیز اور معاندانہ‘ اقدامات کو بنیاد بناتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق الجزائر کی جانب سے ان ’اقدامات‘ کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
الجزائر کے اعلان کے فوراً بعد اماراتی صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے ایکس پر کہا کہ سفارتی تعلقات کی بنیاد ’عقلیت پسندی، رابطوں اور مفادات کی شفافیت‘ پر ہونی چاہیے، نہ کہ ’ایسی پہیلیوں اور اشاروں پر جنہیں سمجھنے کے لیے تشریح درکار ہو۔‘
حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے۔ الجزائر کے میڈیا کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس پر خطے میں اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں کرنے کا الزام لگایا ہے۔
الجزائر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اقدامات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ انہیں مزید قابلِ قبول یا قابلِ برداشت نہیں سمجھا جا سکتا اور الجزائر ’دوطرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے تمام ذرائع استعمال‘ کر چکا ہے۔
دوسری جانب انور قرقاش نے الجزائر کا نام لیے بغیر کہا کہ کامیاب سفارت کاری واضح مؤقف اور مفادات و اختلافات کے مؤثر انتظام پر منحصر ہوتی ہے۔
الجزائر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے سفیر کو وزارت میں طلب کر کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا اور اس پر عمل درآمد کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیا گیا۔
الجزائر اور متحدہ عرب امارات کئی علاقائی معاملات پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ الجزائر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی مخالفت کرتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات اور الجزائر کے علاقائی حریف مراکش نے 2020 میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے ابراہمی معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔
الجزائر نے ’اشتعال انگیز اور معاندانہ‘ اقدامات کو بنیاد بناتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ہیں۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments