سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے جمعرات کو نیتن یاہو حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کی حمایت کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تشدد فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے بے دخل کرنے اور مقبوضہ اراضی کو اسرائیل میں ضم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اولمرٹ نے ’’العربیہ انگلش‘‘ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ نیتن یاہو حکومت مغربی کنارے میں آبادکاروں کی انتہا پسندی سے آنکھیں چرا رہی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے پرتشدد اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو یہ سمجھنا نہیں چاہتے کہ آبادکاروں کے تشدد پر مسلسل خاموشی اختیار کرنے کے کیا نتائج اور اثرات مرتب ہوں گے۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے اسرائیل اور متعدد یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان ممالک نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور 1967 سے مقبوضہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر یہودی آبادکاری کے منصوبے پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
لندن، پیرس اور اوٹاوا کے علاوہ 9 ممالک، ڈنمارک، اسپین، فن لینڈ، آئرلینڈ، آئس لینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال اور سویڈن نے منگل کو کہا کہ وہ ’’بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دی جانے والی بستیوں کے ساتھ تجارت پر قومی سطح پر پابندیاں عائد کرنے اور/یا اس حوالے سے یورپی پابندیوں کی حمایت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘‘
ان ممالک نے مزید کہا کہ وہ اپنے قومی طریقہ کار کے تحت ایسی پابندیاں یا دیگر اقدامات اختیار کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ نے اب تک یورپی ممالک کے اس غصے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف اتنا کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اس اچانک پیدا ہونے والے غصے کی وجہ کیا ہے۔
سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے جمعرات کو نیتن یاہو حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کی حمایت کر رہی ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments