ایران کے صوبے خوزستان کے ایک مقامی عہدیدار کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات امریکی حملوں کے بعد صوبے میں تین مقامات پر سات افراد ہلاک اور آٹھ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق خوزستان کے نائب سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے امور کے عہدیدار ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ منگل کی رات امریکی فضائی حملوں میں اہواز اور آغاجاری شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسی نوعیت کے حملوں کی اطلاعات ساحلی صوبے ہرمزگان کے مختلف علاقوں سے بھی موصول ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق ضلع سیریک کے گاؤں دہستک میں شادی کی تقریب میں ہونے والے ایک حملے میں ایک بچے سمیت کم از کم پانچ شہری ہلاک جبکہ 60 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
منگل کی شب جنوبی ایران پر امریکی فضائی حملوں اور سیریک کے گاؤں کوہستک میں شادی کی تقریب پر حملے کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’آج رات سیریک میں ایک رہائشی گھر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس حملے کے نتیجے میں 50 سے زائد بے گناہ خواتین، مرد اور بچے ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے ایران اور امریکہ۔اسرائیل جنگ کے دوران پیش آنے والے سابقہ واقعات بشمول میناب کے ایک سکول اور لامرد سپورٹس کمپلیکس پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’بمباری سے زیادہ خطرناک چیز بمباری کو معمول بنانا ہے، اور خاموشی سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اس خاموشی کو جواز کے طور پر تعبیر کیا جائے۔‘
ایران کے صوبے خوزستان کے ایک مقامی عہدیدار کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات امریکی حملوں کے بعد صوبے میں تین مقامات پر سات افراد ہلاک اور آٹھ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments