جرمنی کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ لیپزگ ہوائی اڈے پر ہونے والے ڈرون حملے کے پیچھے روس کا ہاتھ تھا۔
چار اگست کو مشرقی جرمنی کے لیپزگ ایئرپورٹ پر یوکرینی مال بردار طیاروں کے قریب سے ایک ایسا ڈرون ملا تھا جس میں دھماکہ خیز مواد نصب تھا۔
بظاہر ڈرون کا ڈیٹونیٹر خراب ہونے کی وجہ وہ پھٹ نہیں سکا تھا۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ ایک دوسرا ڈرون قریبی علاقے میں ایک مال بردار طیارے سے ٹکرا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق تیسرا ڈرون 10 روز بعد ہوائی اڈے کے نزدیک سے برآمد ہوا۔
جرمنی کے وزیرِ داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ کا کہنا ہے کہ لیپزگ ہوائی اڈے پر حملہ ’یورپ میں روسی ہائبرڈ کارروائیوں کے طریقہ کار‘ سے مطابقت رکھتا ہے، اور ان کا خیال ہے کہ جرمنی کو دوبارہ بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ڈوبرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے لیے استعمال کیے گئے آلات کے معائنے اور انٹیلی جنس اداروں کی معلومات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس حملے میں روس ملوث تھا۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے منگل کو الزام عائد کیا کہ جرمنی نے لیپزگ ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کی کوشش کا الزام ماسکو پر عائد کرنے کے لیے خود شواہد تیار کیے ہیں۔
تاہم پوتن نے اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
دوسری جانب برلن میں روسی سفارت خانے نے جرمنی کے الزام کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا ہے۔
جرمنی کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ لیپزگ ہوائی اڈے پر ہونے والے ڈرون حملے کے پیچھے روس کا ہاتھ تھا۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments