سعودی وزارتِ خارجہ نے حوثیوں کی جانب سے ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے بیان میں ان حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ’حوثی ملیشیا بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کی آزادی کے لیے خطرہ پیدا کر رہی ہے۔‘
وزارت کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سعودی عرب یمن اور اس کے عرب و اسلامی ہمسایوں کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے والے حوثیوں کے جارحانہ طرزِ عمل اور مجرمانہ کارروائیوں کو مسترد کرتا ہے۔‘
سعودی انتظامیہ نے حوثیوں کی جانب سے امن کی تمام کوششوں کو مسلسل مسترد کیے جانے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’سعودی عرب کو اپنی خودمختاری کے دفاع، قومی وسائل کے تحفظ اور ملک میں موجود شہریوں اور غیر ملکیوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا جائز حق حاصل ہے۔‘
بیان کے مطابق ’سعودی عرب نے واضح کیا کہ وہ اپنی سرزمین اور قومی مفادات کو نشانہ بنانے والے کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق ہوں گے۔‘
سعودی وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ ’حوثی ملیشیا کی جانب سے بے گناہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔‘
سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں سے ہر قسم کی کشیدگی فوری طور پر ختم کرنے اور بحری جہاز رانی کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرات کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا۔
سعودی عرب نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے حوثیوں کی جانب سے ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments