ریزرویشن کے معاملے پر این ڈی اے کی 2 اتحادی پارٹیوں کے درمیان تنازعہ اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے اپنے ہی اتحادی اور مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔ مانجھی کی پارٹی ’ہم‘ یعنی ہندوستانی عوام مورچہ نے ریزرویشن پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد دونوں لیڈران کے درمیان بیان بازی تیز ہو گئی ہے۔
چراغ پاسوان کا کہنا ہے کہ اگر جیتن رام مانجھی ریزرویشن میں کریمی لیئر اور ذیلی کوٹے کی بات کرتے ہیں تو انہیں پہلے خود استعفیٰ دینا چاہیے۔ انہوں نے مانجھی کے بیٹے اور بہار حکومت میں وزیر سنتوش کمار سُمن کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا۔ دراصل دونوں پارٹیاں بہار اور مرکز میں این ڈی اے کی اتحادی ہیں۔ ایسے میں 2 مرکزی وزرا کے درمیان اس طرح کا تنازعہ اتحاد میں رسہ کشی کی بحث کو بڑھا رہا ہے۔
تنازعہ کی شروعات ’ہم‘ کی جانب سے درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے ریزرویشن میں ذیلی کوٹہ دینے کے مطالبہ سے ہوئی۔ مانجھی کے بیٹے سنتوش کمار سمن نے کہا کہ ریزرویشن پر نظرثانی ضروری ہے۔ ریزرویشن کا فائدہ سب سے کمزور اور طویل عرصہ سے پسماندہ ذاتوں تک بھی پہنچنا چاہیے۔ سمن نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی ریزرویشن ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہی ہے۔ بس ریزرویشن کو زیادہ منصفانہ اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ابھی ریزرویشن کا فائدہ صرف چند برادریوں تک زیادہ پہنچ رہا ہے۔
جیتن رام مانجھی بہار کے مُسہر سماج سے آتے ہیں۔ یہ دلت سماج کے سب سے پسماندہ گروپوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ’ہم‘ کا کہنا ہے کہ دلت ریزرویشن کا فائدہ پاسوان اور روی داس جیسی کچھ برادریوں کو زیادہ ملا ہے۔ دوسری جانب کئی دیگر دلت برادریاں اب بھی پیچھے ہیں۔ سنتوش کمار سمن نے دعویٰ کیا کہ ان کی مُسہر برادری سے اب تک ایک بھی شخص آئی اے ایس افسر نہیں بن پایا ہے۔ اسی بنیاد پر ’ہم‘ ریزرویشن کے اندر زیادہ کمزور برادریوں کے لیے الگ انتظام کا مطالبہ کر رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ریزرویشن کو لے کر موجودہ تنازعہ کی جڑ 2024 کے سپریم کورٹ کے ایک اہم فیصلے میں ہے۔ عدالت نے ریاستوں کو ایس سی اور ایس ٹی زمرے کے اندر ذیلی درجہ بندی یعنی سب کلاسیفکیشن کی اجازت دی تھی۔ اس کا مقصد ان طبقات میں سب سے زیادہ پسماندہ ذاتوں تک ریزرویشن کا فائدہ پہنچانا تھا۔ حال ہی میں سپریم کورٹ میں ایک عرضی بھی داخل کی گئی ہے۔ اس میں ایس سی اور ایس ٹی زمرے کے سماجی اور اقتصادی طور پر آگے بڑھ چکے لوگوں کو ریزرویشن کے فائدے سے باہر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ خوشحال خاندان ریزرویشن کے فائدے پر زیادہ قبضہ کر رہے ہیں۔
عرضی میں 2024 کے فیصلہ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ آئینی بنچ کے سات میں سے 4 ججوں نے ایس سی اور ایس ٹی زمرے میں بھی کریمی لیئر کا اصول نافذ کرنے کی بات کہی تھی۔ تاہم مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں دیے گئے حلف نامہ میں کہا ہے کہ ایس سی اور ایس ٹی پر کریمی لیئر کا اصول نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ فی الحال یہ نظام او بی سی زمرہ میں نافذ ہے۔
اس درمیان مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے ’ہم‘ کے مطالبہ کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایس سی ریزرویشن میں کریمی لیئر کی بات کر رہے ہیں، انہیں پہلے ریزرویشن کا فائدہ چھوڑنا چاہیے۔ اگر جیتن رام مانجھی کریمی لیئر کے نظام کے حق میں ہیں تو انہیں پہلے مرکزی وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔ ان کے بیٹے سنتوش کمار سمن کو بھی استعفیٰ دینا چاہیے۔
چراغ پاسوان کی پارٹی ایل جے پی رام ولاس طویل عرصہ سے ایس سی ریزرویشن میں ذیلی کوٹے کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ چراغ نے کہا کہ ایس سی سماج کی تمام برادریاں متحد رہی ہیں۔ آئین میں ایس سی ریزرویشن کو اقتصادی بنیاد پر طے کرنے کا انتظام نہیں ہے۔ چراغ نے خبردار کیا کہ ریزرویشن میں ذیلی کوٹہ یا کریمی لیئر نافذ کرنے سے سماجی انصاف کا مقصد کمزور ہو سکتا ہے۔ اس سے سماج میں تقسیم بڑھے گی۔ اس کا اثر دلتوں کے اتحاد پر بھی پڑ سکتا ہے۔
ریزرویشن کا معاملہ ایسے وقت پھر سیاسی بحث کے مرکز میں ہے، جب دہلی کے جنتر منتر پر ریزرویشن کے خلاف مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔ ایسے میں این ڈی اے کے اندر اتحادی پارٹیوں کے درمیان شروع ہوئی یہ بحث آنے والے دنوں میں مزید تیز ہونے کے امکانات ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرکزی وزیر چراغ پاسوان کے بیان پر مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے جوابی حملہ کیا ہے۔ گیا میں انہوں نے کہا کہ چراغ کے موقف سے غریب اور ضرورت مند لوگوں کو ریزرویشن کے فائدے سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔ مانجھی نے کہا کہ وسیع تر عوامی مفاد میں ریزرویشن کے اندر یہ تقسیم ضروری ہے۔ انہوں نے چراغ پر غریبوں کی فکر نہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اگر چراغ کو غریب لوگوں کی فکر نہیں ہے تو انہیں پہلے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
ریزرویشن کے معاملے پر این ڈی اے کی 2 اتحادی پارٹیوں کے درمیان تنازعہ اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے اپنے ہی اتحادی اور مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی کے استعفیٰ کا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments