نیویارک:
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے امریکہ کے شہر نیویارک میں منعقدہ "ون ورلڈ، ون ہیومینٹی" (ایک دنیا، ایک انسانیت) کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک انتہائی اہم اور بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر کوئی شخص خود کو ہندو کہتا ہے لیکن یہ سوچتا ہے کہ ہندستان میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے، تو وہ شخص سچا ہندو ہو ہی نہیں سکتا۔
موہن بھاگوت سنگھ کی 100 سالہ عالمی تقریبات کے سلسلے میں امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کے دورے پر ہیں۔ نیویارک کے مشہور 'میڈیسن اسکوائر گارڈن' میں 5 ہزار سے زائد افراد کے بڑے اجتماع سے خطاب کرنے سے چند گھنٹے قبل انہوں نے اس مذہبی کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
آر ایس ایس سربراہ نے کہا، "اگر آپ خود کو ہندو کہتے ہیں، تو آپ کو یہ ماننا ہوگا کہ تمام راستے ایک ہی منزل (خدا) کی طرف جاتے ہیں۔ ہر انسان کی ایک ذاتی عزت اور وقار ہے، اور ہمارے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ دانشور اور روایتی حکمت یہ سکھاتی ہے کہ سبھی کو برابر دیکھا جائے۔ ظاہری اور فکری اختلافات محض قدرت کی تنوع کی علامت ہیں، جو وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں، لیکن بنیادی سچائی یہی ہے کہ ہم سب ایک ہیں۔
موہن بھاگوت نے 2018 میں نئی دہلی کی اپنی ایک تقریب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں موجود چند مسلم بھائیوں نے ان سے سوال کیا تھا: "آپ ایک ہندو تنظیم ہیں اور 'ہندو راشٹر' کی بات کرتے ہیں، تو ہمارے (مسلمانوں کے) بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ ہمیں ملک سے نکال دیں گے؟"
انہوں نے بتایا کہ اس وقت انہوں نے جواب دیا تھا: "نہیں، یہ ہندوتوا نہیں ہے۔ اگر کوئی ہندو یہ سوچتا ہے کہ بھارت میں کوئی مسلم نہیں ہونا چاہیے، تو وہ ہندو رہنے کے قابل نہیں رہتا۔"
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ اگر کوئی شخص خود کو ہندو کہتا ہے لیکن یہ سوچتا ہے کہ ہندستان میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے، تو وہ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments