پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پولیس ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے بم دھماکے اور مسلح حملے میں اموات کی تعداد بڑھ کر کم از کم 31 ہو گئی ہے جن میں 16 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
سينئیر پولیس حکام نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ واقعے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
آئی جی پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز کی مسجد پر دھماکے کے بعد دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش کو پولیس اور سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا جس کے نتیجے میں تمام 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
رات بھر جاری رہنے والے اس آپریشن کو ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ریجنل پولیس آفیسر اور ڈی پی او کوہاٹ نے لیڈ کیا جبکہ جی او سی کوہاٹ بھی موقع پر موجود رہے۔
ایلیٹ فورس کمانڈوز، سی ٹی ڈی ٹیموں اور سیکورٹی فورسز نے عمارت کے تمام اہم حصوں کو مکمل طور پر کلیئر کروا لیا ہے۔
آئی جی پی کا کہنا تھا کہ ’خودکش بمبار نے قانون کے رکھوالوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم وہ ناکام رہا۔ پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز نے بہادری سے مقابلہ کیا اور یہ جانباز جوان قوم کا فخر ہیں۔‘
حملہ آوروں نے جمعے کی دوپہر کوہاٹ کے ’اولڈ پولیس لائنز‘ کمپلیکس پر حملہ کیا۔ تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار کی آبادی والے اس شہر میں قائم یہ کمپلیکس ضلع کی سطح کا پولیس ہیڈ کوارٹر ہے جہاں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)، سپیشل برانچ اور دیگر پولیس یونٹس کے اہم دفاتر موجود ہیں۔
کوہاٹ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ زخمی ہونے والے 100 سے زائد افراد میں سے زیادہ تر پولیس اہلکار ہیں اور ان میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک ایک مقامی عسکریت پسند گروپ ’اتحاد المجاہدین پاکستان‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
اے ایف پی کی تصویروں میں حملے کے بعد فوجی اہلکاروں کو اینٹوں کے ڈھیر، ملبے اور تباہ شدہ دیواروں کے قریب کھڑے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ خودکار رائفلوں سے لیس اہلکار کمپلیکس کی حفاظت پر مامور ہیں۔ پولیس کمپلیکس کے قریب سڑک پر کئی ایمبولینسز بھی قطار میں کھڑی دکھائی دیں۔
پاکستان خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کا الزام افغانستان کی سرزمین سے کام کرنے والے عسکریت پسندوں پر عائد کرتا ہے تاہم افغان طالبان حکومت افغان سرزمین کے استعمال سے انکار کرتی رہی ہے۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پولیس ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے بم دھماکے اور مسلح حملے میں اموات کی تعداد بڑھ کر کم از کم 31 ہو گئی ہے جن میں 16 پولیس اہلکار بھی شام...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments