خرطوم: سوڈان کی فوج پر متنازع سرحدی علاقے ابیئی میں ایک بازار پر ڈرون حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے باعث 150 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ابیئی کے مقامی حکام نے الزام لگایا کہ حملے کے دوران فوج نے بارودی مواد یا گولہ بارود استعمال کیا۔
حکام کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین، بچے، بزرگ، مقامی تاجروں، نوک ڈنکا برادری کے افراد، جنوبی سوڈان واپس آنے والے شہریوں اور سوڈانی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
اقوام متحدہ نے بھی ابیئی میں حملے کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق امیت مارکیٹ میں متعدد شہری ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد افراد زخمی اور کئی لاپتا ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ نے ڈرون حملوں میں اضافے کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بیان کردہ ہلاکتوں کی تعداد مقامی حکام کے اعدادوشمار سے کم ہے۔
جنوبی سوڈان کی وزارت خارجہ نے حملے پر سوڈانی سفیر کو طلب کیا اور الزام لگایا کہ فوج نے بازار کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔
یہ مارکیٹ ان علاقوں تک سامان پہنچانے کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کا کنٹرول ہے۔
سوڈان اپریل 2023 سے سرکاری فوج اور نیم فوجی تنظیم آر ایس ایف کے درمیان شدید جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ حالیہ حملے بھی ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کا حصہ ہیں۔
خرطوم: سوڈان کی فوج پر متنازع سرحدی علاقے ابیئی میں ایک بازار پر ڈرون حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے باعث 150 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments