فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کا اچانک دورہ کیا ہے، جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے۔ اس دورے کا مقصد حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ہے۔
ایران کے اتحادی حوثی جنگجوؤں کے حملوں میں اضافے کے بعد ایمانویل میکخواں سعودی عرب پہنچنے والے پہلے مغربی رہنما ہیں۔
ایمانویل میکخواں کی سعودی عرب آمد سے قبل فرانسیسی ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس دورے کا مقصد حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ فرانس کی یکجہتی کا اظہار کرنا اور ہائیڈروکاربن وسائل کی فراہمی کو محفوظ بنانے اور ان کے ذرائع میں تنوع لانے کی کوششیں جاری رکھنا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایمانویل میکخواں نے کہا کہ وہ ’اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔‘
سعودی عرب پہنچنے سے پہلے ایمانویل میکخواں قطر میں تھے، جہاں انھوں نے اعلان کیا کہ فرانس نے سعودی عرب کی اہم آئل ٹرمینل بندرگاہ ینبع پر اہلکار اور سازوسامان بھیجا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن کے جنوبی صوبے حضرموت کے دارالحکومت مکلا کے الریان ایئرپورٹ پر سعودی عرب کی جانب سے فوجی کارگو طیاروں کے ذریعے پہنچائے گئے فوجی سازوسامان کو نشانہ بنانے کا دعویٰ حوثی تنظیم انصار اللہ نے کیا ہے۔
حوثی گروپ نے ریاض کو خبردار بھی کیا ہے کہ وہ ’شہری تنصیبات کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال‘ نہ کرے۔
فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کا اچانک دورہ کیا ہے، جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے۔ اس دورے کا مقصد حوثی حملوں کے ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments