ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم کے دفتر نے بدھ کے روز بتایا کہ سرکاری ملازمین پر ویز (Waze) نامی نیویگیشن ایپ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ایپ کے اسرائیل سے روابط کے باعث ڈیٹا کی حفاظت سے متعلق خدشات کو اس فیصلے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
کوالالمپور اسرائیل کا ایک دیرینہ اور سخت ناقد ہے اور اس سے کوئی سفارتی تعلقات نہیں رکھتا۔
ویز جو گوگل ایل ایل سی کی ملکیت ہے، اسرائیل میں قائم کی گئی تھی اور ہنوز وہیں رجسٹرڈ ہے۔
انور ابراہیم کے دفتر نے کہا ہے کہ انہوں نے "تمام سرکاری ملازمین کے لیے نیویگیشن ایپلی کیشن ویز کے استعمال پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔"
فیس بک پر جاری ایک بیان میں مزید کہا گیا، "اس اقدام کا مقصد ہے کہ سرکاری معلومات اور صارفین کے ذاتی ڈیٹا کو اسرائیلی حکومت کی جانب سے غلط استعمال کے خطرے سے محفوظ رکھا جائے۔"
مقامی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ منگل کے روز نیشنل سائبر سکیورٹی کمیٹی کے ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت انور ابراہیم نے کی تھی۔
ملائیشین حکومت نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں کہ سرکاری ملازمین کو ویز استعمال کرنے سے کیوں روکا گیا ہے۔ یہ ایپ ڈرائیورز سے حاصل کردہ ڈیٹا کی مدد سے ٹریفک کی تازہ ترین صورتِ حال بتاتی ہے۔
یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس پابندی پر عمل درآمد یا اس کی نگرانی کیسے ہو گی۔
تاہم حکومت نے کہا ہے کہ "حساس سرکاری معلومات اور شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کو اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں ایسے استحصال سے بچانا ضروری ہے جس سے قومی سلامتی اور خودمختاری کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔"
انور ابراہیم نے صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ ٹوجو (TuJu) جیسے پلیٹ فارمز استعمال کریں جو ملائیشیا میں مقامی طور پر تیار کردہ روڈ نیویگیشن ایپ ہے۔
ملائیشیا میں ویز کا استعمال کافی زیادہ ہے حتیٰ کہ گریب (Grab) آن لائن ٹیکسی سروس کے ڈرائیور بھی اسے متبادل نیویگیشن ٹول کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
ملائیشین حکومت نے کہا، "ہم وہ تمام راستے بند کر دیں گے جنہیں اسرائیلی حکومت قوم اور اس کے عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کی خاطر استعمال کر سکتی ہے۔"
ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم کے دفتر نے بدھ کے روز بتایا کہ سرکاری ملازمین پر ویز (Waze) نامی نیویگیشن ایپ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ایپ کے اسرائیل سے روابط کے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments