نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے طلبہ کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے گاندھی اسمرتی پہنچ کر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپوزیشن نے طلبہ پر تشدد، تعلیمی نظام میں بے ضابطگیوں اور امتحانات سے متعلق تنازعات پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی دہرایا۔ راہل گاندھی کی قیادت میں انڈیا اتحاد کے متعدد ارکان پارلیمنٹ جمعرات کے روز گاندھی اسمرتی جانے کے لیے روانہ ہوئے، تاہم راستے میں دہلی پولیس نے ان کی بس کو مختلف مقامات پر روک دیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا الزام ہے کہ پولیس نے بیریکیڈنگ اور سرکاری بسیں کھڑی کرکے انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔ کچھ دیر کی رکاوٹ کے بعد انہیں آگے جانے کی اجازت دی گئی اور وہ گاندھی اسمرتی پہنچ گئے، جہاں انہوں نے قومی ترانہ بھی گایا۔ گاندھی اسمرتی پہنچنے کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ اسی مقام پر مہاتما گاندھی کو قتل کیا گیا تھا اور آج مودی حکومت ہندوستان میں جمہوریت کا قتل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ پر ظلم کر رہی ہے، انہیں احتجاج کرنے پر مارا پیٹا جا رہا ہے اور اپوزیشن اس صورتحال کو قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا چاہیے اور ملک کے طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ اس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ جب ملک کے طلبہ سڑکوں پر ہیں تو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد ان طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے جو اپنے مستقبل اور انصاف کے مطالبے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انڈیا اتحاد کے رہنما ان طلبہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے گاندھی اسمرتی جا رہے ہیں جنہوں نے تعلیمی نظام کی ناکامیوں اور امتحانات سے متعلق تنازعات کے بعد اپنی جانیں گنوائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو طلبہ پُرامن طور پر جواب دہی اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے زخمی ہوئے ہیں، اپوزیشن ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ کانگریس رہنما سندیپ دکشت نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر ارکان پارلیمنٹ پارلیمنٹ جا سکتے ہیں تو انہیں گاندھی اسمرتی جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے پہلے سے راستے بند کرنے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی۔ دوسری جانب وزارت داخلہ نے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے جنتر منتر کے اطراف تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے علاقے میں شام چار بجے سے رات بارہ بجے تک موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ علاقے میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ نئی دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کا احتجاج بدستور جاری ہے۔ طلبہ مختلف تعلیمی مسائل، امتحانات میں بے ضابطگیوں اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ سمیت اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دیے ہوئے ہیں، جبکہ متعدد اپوزیشن جماعتیں ان کے احتجاج کی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں۔
Source: Admin
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
9 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments