نئی دہلی : ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے نیٹ امتحان میں مبینہ پیپر لیک اور اس کے خلاف جاری ملک گیر احتجاج کے معاملے پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا طلبا کے نام پیغام کافی نہیں، بلکہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔ جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شتروگھن سنہا نے کہا کہ مرکزی حکومت امتحانی بے ضابطگیوں کے معاملے میں کوئی مؤثر یا ٹھوس قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق پیپر لیک کے باعث لاکھوں طلبا کا مستقبل متاثر ہوا، کئی نوجوان ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے اور متعدد طلبا نے اپنی جان تک گنوا دی، لیکن اس کے باوجود حکومت نے نہ تو وزیر تعلیم سے استعفیٰ لیا اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں کی کوئی دلجوئی کی۔ انہوں نے کہا کہ جن طلبا نے مایوسی میں خودکشی کی، ان کے اہل خانہ کو آج تک کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔ ان کے بقول حکومت کا رویہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ عوام کے غم و غصے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے وقت گزاری کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ شتروگھن سنہا نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل کا ذمہ دار بھی مرکزی حکومت کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نہ اپوزیشن کے مطالبات تسلیم کیے ہیں اور نہ ہی اس انتہائی حساس معاملے کو اس سنجیدگی سے لیا ہے جس کا یہ متقاضی ہے۔ ان کے مطابق حکومت مسلسل معاملے کو ٹالنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے باعث پارلیمنٹ کی کارروائی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پیپر لیک کے مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کے اعلان کو بھی ناکافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اپوزیشن مسلسل جوابدہی، شفاف تحقیقات اور سیاسی ذمہ داری کا مطالبہ کر رہی ہے تو حکومت اتنے بڑے بحران کو محض مختصر بحث یا عدالتی کارروائی کے ذریعے ختم کرنا چاہتی ہے، جو مسئلے کا حقیقی حل نہیں۔ ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ نے واضح کیا کہ جب تک مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے، خودکشی کرنے والے طلبا کے خاندانوں کو مناسب معاوضہ نہیں دیا جاتا اور احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف درج مقدمات واپس نہیں لیے جاتے، اس وقت تک اپوزیشن حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی، عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال سمیت متعدد اپوزیشن رہنما مسلسل دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن حکومت ان مطالبات کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ شتروگھن سنہا نے کہا کہ حکومت کو سیاسی انا سے بالاتر ہو کر نوجوانوں کے مستقبل کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ یہ صرف ایک امتحان یا ایک وزارت کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کے لاکھوں طلبا اور ان کے خاندانوں کے اعتماد کا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت واقعی نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے صرف بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ تعلیمی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
Source: Admin
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
9 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments