Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ڈیل کے لیے مصالحت کاروں کی کوششیں جاری: حکام

Admin
By Admin
Sep 29, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ڈیل کے لیے مصالحت کاروں کی کوششیں جاری: حکام
ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ڈیل کے لیے مصالحت کاروں کی کوششیں جاری: حکام — September 29, 2026
تین حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان لڑائی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے کے لیے ثالث اب بھی دونوں ملکوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جبکہ بالواسطہ مذاکرات پیر کو دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔
یہ تفصیلات ایسے وقت پر سامنے آئی ہیں جب ایران امریکہ جنگ آٹھویں ماہ میں داخل ہو گئی ہے جس کے باعث بڑے پیمانے پر معاشی مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک پر محفوظ بحری آمدورفت بحال کرنے کی متعدد کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
ہفتے کے اختتام پر اُس وقت بھی صورتِ حال غیر یقینی رُخ اختیار کر گئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے ایران کی تازہ تجویز مسترد کر دی ہے۔
تہران نے تجویز دی تھی کہ امریکہ اگر ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کر دے اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں ختم کر دے، تو وہ ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دے گا۔ ایران کی جانب سے اس کے علاوہ بھی کچھ شرائط پیش کی گئی تھیں۔
تاہم ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نیویارک میں موجود رہے اور کہا کہ وہ ثالثوں کی جانب سے پیش رفت کی اطلاع کے منتظر ہیں۔ اس پورے عمل میں قطر ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
پیر کو اے پی سے بات کرنے والے دو حکام نے تصدیق کی کہ ثالث دونوں فریقوں کے ساتھ ایک ایسی تجویز پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا اور امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے گی، جس کے بعد ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مرحلہ آئے گا۔
زیرِ غور مسودے کے مطابق آبنائے ہرمز کو ایک الگ معاہدے کے تحت دوبارہ کھولا جائے گا جس پر ایران آبنائے کے دوسری جانب واقع عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ اس میں کسی قسم کا ٹول یا گزرگاہ فیس شامل نہیں ہوگی، جو تہران کی ایک اہم خواہش رہی ہے۔
دونوں حکام نے یہ بھی بتایا کہ ٹرمپ کے عوامی بیانات کے باوجود امریکہ نے موجودہ تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد نہیں کیا۔ اس سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیانات مذاکرات میں دباؤ بڑھانے یا اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مزید رعایتیں چاہتا ہے، جن میں بین الاقوامی معائنہ کاروں کو ایران میں داخلے کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔ جون میں دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت، جو چند ہی دنوں میں ناکام ہوگئی تھی، کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر 60 روز کے دوران مذاکرات ہونا تھے۔
تینوں حکام نے پسِ پردہ جاری سفارتی مذاکرات پر بات کرنے کے لیے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کیں۔ لیکن وائٹ ہاؤس نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

تین حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان لڑائی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے کے لیے ثالث اب بھی دونوں ملکوں کے ساتھ کام کر رہے ہ...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn