ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے ریکارڈ مقدار میں تیل کی ترسیل کے دعوے کو مسترد کر دیا۔
ایک موقع پر میڈیا سے گفتگو میں باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کا کہنا ہے کہ ایران کا آبنائے ہرمز پر کوئی کنٹرول نہیں، لیکن عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 50 ڈالرز اضافی پریمیئم عائد ہے۔
ایرانی اسپیکر نے کہا ہے کہ یا تو تیل کی مارکیٹ احمق ہے جو اتنی زیادہ قیمت پر تیل خرید رہی ہے یا پھر امریکا کا بیانیہ گھڑنے والا نظام لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔
باقر قالیباف نے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ امریکا کی بات پر یقین کرنے والوں کے لیے آبنائے ہرمز میں مفت ڈالرز چھاپنے کی مشین لگی ہوئی ہے، جائیں اور لے لیں۔
اس سے پہلے امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ اتوار کی رات آبنائے ہرمز سے ریکارڈ مقدار میں تیل کی ترسیل ہوئی۔
انہوں نے کہا تھا کہ ایران جلد ہار مان جائے گا، ایران کی شکست کے ساتھ ہی تیل کی قیمتیں گر جائيں گی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے ایران کے ساتھ مزید بات چیت کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ توقع ہے امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید بات چیت کریں گے، ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کے لیے ایران کی شرائط کو ناقابلِ قبول بھی قرار دیا تھا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے ریکارڈ مقدار میں تیل کی ترسیل کے دعوے کو مسترد کر دیا۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments