Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

شام میں خفیہ مقام پر موجود نیوکلیئر مواد جلد ہٹائے جانے کا امکان

شام میں خفیہ مقام پر موجود نیوکلیئر مواد جلد ہٹائے جانے کا امکان

شام میں خفیہ مقام پر موجود نیوکلیئر مواد جلد ہٹائے جانے کا امکان ہے، امریکی اور اسرائیلی حکام کے شام سے مذاکرات کامیاب ہوگئے۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نیوکلیئر مواد اپنے قبضے میں لے گی۔

شام کے خفیہ مقام ’’سائٹ 99‘‘ پر موجود نیوکلیئر مواد اسرائیل اور امریکا کے لیے تشویش کا باعث رہا۔

بشارا لاسد حکومت نے خفیہ نیوکلیئر پروگرام کے تحت الکِبار ری ایکٹر قائم کیا تھا، بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد آئی اے ای اے کو شام کے نیوکلئیر مقامات تک رسائی حاصل ہوئی۔

اسرائیل نے 2007 میں شام کے خفیہ الکِبار جوہری ری ایکٹر پر بمباری کی تھی۔

شام میں خفیہ نیوکلیئر مواد کے معاملے پر اسرائیل، امریکا اور شام کے درمیان کئی ماہ تک خفیہ سفارتی رابطے جاری رہے۔

بالآخر ٹرمپ انتظامیہ، شام اور اسرائیل کے درمیان مفاہمت ہوگئی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے شام سے نیوکلیئر مواد نہ ہٹائے جانے کی صورت میں سائٹ 99 پر دوبارہ حملے کی دھمکی دی۔

اسرائیل کو سائٹ 99 پر موجود نیوکلیئر مواد کے حوالے سے شدید تحفظات تھے۔

امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل سے سائٹ 99 کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کی درخواست کی۔

اسرائیلی دھمکی کے بعد انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کو معاملے میں شامل کیا گیا۔

اسرائیلی حکام کو خدشہ تھا کہ ترکی بھی شام کو سائٹ 99 سے نیوکلیئر مواد حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام کی موجودہ حکومت نے نیوکلیئر مواد تک رسائی کیلئے بھرپور ساتھ دیا۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn