ماناگوا : نکاراگوا میں تقریباً 20 سال سے برسر اقتدار صدر نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں اب کبھی انتخابات نہیں ہوں گے، یہ فیصلہ انہوں نے اپوزیشن کے لیے اقتدار کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے کیلیے کیا۔ نکاراگوا میں طویل عرصے سے برسراقتدار صدر ڈینیئل اورٹیگا نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں آئندہ انتخابات نہیں کرائے جائیں گے، جس کے بعد ان کی مدتِ صدارت ختم ہونے پر اقتدار کی جمہوری منتقلی کے امکانات مزید معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ 80سالہ ڈینیئل اورٹیگا جو سال 2007 سے مسلسل اقتدار میں ہیں جبکہ 1980 کی دہائی میں بھی صدر رہ چکے ہیں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب نکاراگوا میں ایسے انتخابات نہیں ہوں گے کہ جن کے ذریعے اپوزیشن جماعت حکومت حاصل کرنے کی کوشش کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امریکا کی حمایت یافتہ جماعتوں اور سوموزا دور کے حامیوں کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے دن ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صدر اورٹیگا نے اگرچہ انتخابات کے خاتمے کا اعلان تو کردیا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس فیصلے کو آئینی یا قانونی طور پر کس طریقے سے نافذ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ نکاراگوا میں 2021 کے صدارتی انتخابات کو بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، کیونکہ انتخابات سے قبل حکومت نے متعدد اپوزیشن رہنماؤں، صدارتی امیدواروں اور کاروباری شخصیات کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ اختلافِ رائے کو بھی جرم قرار دیا گیا تھا۔ گزشتہ سال آئینی ترامیم کے ذریعے اورٹیگا نے اپنی اہلیہ روزاریو موریلو کو اپنا "شریک صدر” مقرر کیا اور صدارتی عہدے کی مدت 5 کے بجائے 6 سال کردی۔ مبصرین کے مطابق اس وقت ملک کی انتظامیہ، عدلیہ، مسلح افواج اور دیگر اہم ریاستی ادارے عملاً اورٹیگا اور ان کی اہلیہ کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے نکاراگوا کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ملک کو ایک آمرانہ ریاست میں تبدیل کر دیا ہے جہاں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ 2018میں حکومت مخالف احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور جلاوطن اپوزیشن رہنماؤں نے صدر اورٹیگا کے بیان کو دو افراد پر مشتمل خاندانی حکمرانی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر سیاسی سرگرمیوں کی معمولی آزادی بھی دی گئی تو اپوزیشن دوبارہ منظم ہوسکتی ہے۔ اپوزیشن کے سابق صدارتی امیدوار فیلکس مارادیگا، جو 2021 سے 2023 تک قید میں رہنے کے بعد امریکا جلاوطن کر دیے گئے تھے نے کہا کہ اورٹیگا کا بیان طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ خوف کا اعتراف ہے۔ ان کے بقول صدر نے کھل کر تسلیم کر لیا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو کسی بھی جمہوری مقابلے کے سامنے پیش نہیں کرنا چاہتے۔ دوسری جانب امریکی حکومت پہلے ہی اورٹیگا کی حکومت کو آمریت قرار دے چکی ہے اور نکاراگوا کے 2 ہزار350 سے زائد سرکاری عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ پر پابندیاں عائد کرچکی ہے۔
Source: Admin
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
10 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
10 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
4 months ago
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
4 months ago
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
4 months ago
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
4 months ago
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments