Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

اب کبھی انتخابات نہیں ہوں گے، امریکا مخالف ملک کے صدر کا اعلان

اب کبھی انتخابات نہیں ہوں گے، امریکا مخالف ملک کے صدر کا اعلان

ماناگوا : نکاراگوا میں تقریباً 20 سال سے برسر اقتدار صدر نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں اب کبھی انتخابات نہیں ہوں گے، یہ فیصلہ انہوں نے اپوزیشن کے لیے اقتدار کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے کیلیے کیا۔ نکاراگوا میں طویل عرصے سے برسراقتدار صدر ڈینیئل اورٹیگا نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں آئندہ انتخابات نہیں کرائے جائیں گے، جس کے بعد ان کی مدتِ صدارت ختم ہونے پر اقتدار کی جمہوری منتقلی کے امکانات مزید معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ 80سالہ ڈینیئل اورٹیگا جو سال 2007 سے مسلسل اقتدار میں ہیں جبکہ 1980 کی دہائی میں بھی صدر رہ چکے ہیں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب نکاراگوا میں ایسے انتخابات نہیں ہوں گے کہ جن کے ذریعے اپوزیشن جماعت حکومت حاصل کرنے کی کوشش کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امریکا کی حمایت یافتہ جماعتوں اور سوموزا دور کے حامیوں کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے دن ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صدر اورٹیگا نے اگرچہ انتخابات کے خاتمے کا اعلان تو کردیا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس فیصلے کو آئینی یا قانونی طور پر کس طریقے سے نافذ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ نکاراگوا میں 2021 کے صدارتی انتخابات کو بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، کیونکہ انتخابات سے قبل حکومت نے متعدد اپوزیشن رہنماؤں، صدارتی امیدواروں اور کاروباری شخصیات کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ اختلافِ رائے کو بھی جرم قرار دیا گیا تھا۔ گزشتہ سال آئینی ترامیم کے ذریعے اورٹیگا نے اپنی اہلیہ روزاریو موریلو کو اپنا "شریک صدر” مقرر کیا اور صدارتی عہدے کی مدت 5 کے بجائے 6 سال کردی۔ مبصرین کے مطابق اس وقت ملک کی انتظامیہ، عدلیہ، مسلح افواج اور دیگر اہم ریاستی ادارے عملاً اورٹیگا اور ان کی اہلیہ کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے نکاراگوا کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ملک کو ایک آمرانہ ریاست میں تبدیل کر دیا ہے جہاں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ 2018میں حکومت مخالف احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور جلاوطن اپوزیشن رہنماؤں نے صدر اورٹیگا کے بیان کو دو افراد پر مشتمل خاندانی حکمرانی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر سیاسی سرگرمیوں کی معمولی آزادی بھی دی گئی تو اپوزیشن دوبارہ منظم ہوسکتی ہے۔ اپوزیشن کے سابق صدارتی امیدوار فیلکس مارادیگا، جو 2021 سے 2023 تک قید میں رہنے کے بعد امریکا جلاوطن کر دیے گئے تھے نے کہا کہ اورٹیگا کا بیان طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ خوف کا اعتراف ہے۔ ان کے بقول صدر نے کھل کر تسلیم کر لیا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو کسی بھی جمہوری مقابلے کے سامنے پیش نہیں کرنا چاہتے۔ دوسری جانب امریکی حکومت پہلے ہی اورٹیگا کی حکومت کو آمریت قرار دے چکی ہے اور نکاراگوا کے 2 ہزار350 سے زائد سرکاری عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ پر پابندیاں عائد کرچکی ہے۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments