نئی دہلی: میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے بچوں سے متعلق جنسی استحصال پر مبنی مواد (CSAM)، ڈیپ فیک مواد اور آپریٹنگ سسٹم میں پیش آنے والی خامیوں کے معاملے پر حکومتِ ہند سے معذرت کا اظہار کیا ہے۔ اس بات کی اطلاع سرکاری ذرائع نے بدھ کے روز دی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے میٹا کو واضح کر دیا تھا کہ وہ محض ایک ’درمیانی پلیٹ فارم‘ کی تعریف میں نہیں آتا، کیونکہ پلیٹ فارم خود یہ طے کرتا ہے کہ کون سا مواد کس صارف تک پہنچایا جائے گا۔ اسی بنیاد پر آئی ٹی ایکٹ کے تحت دستیاب ’سیف ہاربر‘ تحفظ ان پر لاگو نہیں ہوتا۔
ذرائع کے مطابق مارک زکربرگ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض مخصوص نوعیت کے مواد کو فروغ دینے کے لیے مالی ادائیگیاں کی گئی تھیں۔ انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کی اور حکومت سے معافی مانگی۔ اس سے قبل سرکاری ذرائع نے بتایا تھا کہ وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے میٹا سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو واضح ہدایت دی ہے کہ انہیں ہندوستان کے مقامی قوانین کی مکمل پابندی کرنی ہوگی۔
ادھر پارلیمانی کمیٹی نے فیس بک پر وزیراعظم نریندر مودی کی ایک پوسٹ کو کچھ وقت کے لیے بلاک کیے جانے کے معاملے پر مارک زکربرگ سے تین دن کے اندر غیر مشروط معافی مانگنے کو کہا تھا۔ کمیٹی نے خبردار کیا تھا کہ اگر میٹا مقررہ مدت میں ایسا کرنے میں ناکام رہا تو کمپنی کو بھارت میں حاصل ’سیف ہاربر پروٹیکشن‘ ختم کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم کی ویڈیو غلطی سے ہٹائے جانے کے معاملے پر میٹا کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے نئی دہلی میں وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سکریٹری ایس کرشنن سے ملاقات کی۔ حکام نے موجودہ قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پلیٹ فارم کے مبینہ غلط استعمال، خصوصاً وزیر اعظم کی پوسٹ کو عارضی طور پر ہٹائے جانے پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ایسے معاملات کا فوری ازالہ ضروری ہے۔ اطلاعات کے مطابق میٹا اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے نمائندوں نے کہا کہ ان کے پاس پہلے سے سخت داخلی ضابطے اور فیکٹ چیکنگ کا مؤثر نظام موجود ہے اور وہ اپنے پلیٹ فارم کو جان بوجھ کر کسی بھی غلط یا غیر قانونی استعمال کی اجازت نہیں دیتے۔ واضح رہے کہ پارلیمانی کمیٹی نے وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سکریٹری کو بھیجے گئے ایک خط میں وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر پر مشتمل اس ویڈیو کے ہٹائے جانے کو انتہائی سنگین قرار دیا تھا۔ یہ ویڈیو، جس میں وزیر اعظم امتحانی بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے معاملات پر حکومت کی کارروائی کے بارے میں طلبہ اور ’جنریشن زی‘ سے خطاب کر رہے تھے، تقریباً پانچ سے چھ گھنٹے تک فیس بک پر دستیاب نہیں رہی تھی۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments