Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

’یوپی پولیس کو ہی ختم کردیں...‘، ایف آئی آر دیکھ کر بھڑک گئے سپریم کورٹ کے جج، جم کر لگائی پھٹکار

Admin
By Admin
Sep 30, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

’یوپی پولیس کو ہی ختم کردیں...‘، ایف آئی آر دیکھ کر بھڑک گئے سپریم کورٹ کے جج، جم کر لگائی پھٹکار
’یوپی پولیس کو ہی ختم کردیں...‘، ایف آئی آر دیکھ کر بھڑک گئے سپریم کورٹ کے جج، جم کر لگائی پھٹکار — September 30, 2026
نئی دہلی : سپریم کورٹ نے بدھ، 30 ستمبر کو ایک ایف آئی آر سے متعلق معاملے کی سماعت کرتے ہوئے اتر پردیش پولیس کو سخت پھٹکار لگائی۔ جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا کی سپریم کورٹ بنچ نے ایک فوجداری مقدمے کی تفتیش میں مبینہ بے ضابطگیوں پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسی طرح مقدمات کو سنبھالا جائے گا تو لوگ پولیس پر اعتماد کیسے کریں گے؟ اس دوران عدالت نے انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ اس سے تو بہتر ہے کہ یوپی پولیس کو ہی ختم کر دیا جائے اور اس کی تمام تحقیقات میں سی بی آئی کو شامل کرنے کا حکم دے دیا جائے۔

دراصل سپریم کورٹ نے پایا کہ ایف آئی آر میں اس شخص کا نام درج نہیں کیا گیا، جسے شکایت کنندہ نے مبینہ طور پر موقع پر پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ ایف آئی آر میں ملزم کی جگہ ’نامعلوم‘ لکھا گیا تھا۔ بعد میں ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد پولیس کی جانب سے داخل کیے گئے دستاویزات میں اسی موٹر سائیکل سوار کا نام سامنے آیا۔ اس کے بعد اسے تفتیش میں کلین چٹ دیے جانے کی بات بھی عدالت کے سامنے رکھی گئی۔

سپریم کورٹ کے سامنے شکایت کنندہ نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے بعد اس نے موٹر سائیکل سوار کو خود پکڑ لیا تھا اور اسے پولیس کے حوالے کیا تھا۔ اس کے باوجود پولیس نے ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کی اور ملزم والے کالم میں اس کا نام درج نہیں کیا۔

بنچ نے اسی نکتے پر یوپی پولیس کے وکیل سے سوال کیا کہ جب شخص کو موقع پر پکڑا گیا تھا تو ایف آئی آر میں اسے نامعلوم کیوں بتایا گیا؟ عدالت نے پوچھا کہ اگر شکایت کنندہ نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا تھا تو پھر پولیس نے نامعلوم موٹر سائیکل سوار کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟ عدالت نے سوال اٹھایا کہ اس طرح کی کارروائی کے بعد عام لوگ پولیس پر اعتماد کیسے کریں گے؟

سپریم کورٹ نے یوپی پولیس کی کارروائی پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ہر کام میں کسی نہ کسی طرح کا ایجنڈا نظر آتا ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ اگر پولیس اسی طرح مقدمات کو آگے بڑھائے گی تو عوام اس پر اعتماد کیسے کریں گے؟ بنچ نے یہ بھی کہا کہ بہتر ہوگا کہ یوپی پولیس کی تمام تحقیقات میں سی بی آئی کو شامل کرنے کے لیے کہا جائے۔ اسی دوران عدالت نے انتہائی سخت پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ ایسی صورت میں تو اتر پردیش پولیس کو ہی تحلیل کر دیا جائے اور تمام تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کر دی جائیں۔ تاہم، یہ تبصرے عدالت کی زبانی آبزرویشنز تھیں اور انہیں اتر پردیش پولیس کو تحلیل کرنے یا تمام تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کی سفارش کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

’کَور اَپ جاب‘ پر بھی عدالت ناراض
عدالت نے یوپی پولیس کے تفتیشی طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی کے حکم پر عمل کرنا ایک بات ہے، لیکن کسی معاملے کو اس حد تک موڑ دینا الگ بات ہے۔ عدالت نے پولیس کی تفتیشی کارروائی کے لیے ’کَور اَپ جاب‘ جیسے سخت الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ اس پر جتنا کم کہا جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔ عدالت کی ناراضگی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ایف آئی آر میں شروع میں ملزم کا نام درج نہیں کیا گیا، حالانکہ پولیس کے سامنے یہ حقیقت تھی کہ متعلقہ موٹر سائیکل سوار کو موقع پر پکڑ لیا گیا تھا۔ بعد کی کارروائی میں اس کا نام سامنے آنے اور پھر اسے کلین چٹ دیے جانے سے تفتیش کے طریقہ کار پر سوالات اٹھے۔

شکایت کنندہ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ جب ہائی کورٹ نے پولیس سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کی تو اس کے بعد تفتیش سے متعلق دستاویزات میں موٹر سائیکل سوار کا نام شامل کیا گیا۔ عدالت کے سامنے پیش کیے گئے پولیس کے جوابی حلف نامے کے پیراگراف 6 میں اس شخص کا نام ’تشار‘ بتایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اب اسی معاملے پر پولیس سے واضح جواب طلب کیا ہے کہ جب ملزم کو موقع پر پکڑا گیا تھا تو ایف آئی آر میں اس کا نام کیوں نہیں لکھا گیا اور بعد میں وہی نام کس بنیاد پر شامل کیا گیا۔ عدالت نے متعلقہ پولیس افسر کو اگلی سماعت میں ذاتی طور پر موجود رہنے کی ہدایت دی ہے۔

’بائے اینڈ بینچ‘ کی رپورٹ کے مطابق، شکایت کنندہ کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ جب موٹر سائیکل پولیس نے ضبط کی تھی تو اس پر نمبر پلیٹ نہیں تھی۔ بعد میں تفتیش کے دوران اسی موٹر سائیکل کا ایک رجسٹریشن نمبر سامنے آیا۔ اس تبدیلی کو لے کر بھی سپریم کورٹ کے سامنے سوالات اٹھائے گئے۔ عدالت نے پوری تفتیشی کارروائی کا جائزہ لیتے ہوئے پولیس سے واضح کرنے کو کہا کہ واقعات کے مختلف مراحل میں ریکارڈ میں تبدیلیاں کس وجہ سے ہوئیں۔ بنچ نے کہا کہ پولیس کی جانب سے داخل کیا گیا جواب اسے اطمینان بخش نہیں لگا۔

سپریم کورٹ نے یوپی پولیس کی جانب سے داخل کیے گئے جوابی حلف نامے کو بھی کافی نہیں مانا۔ عدالت نے کہا کہ اسے یہ حلف نامہ ’مکمل طور پر بے بنیاد‘ محسوس ہوا اور متعلقہ افسر کو اگلی سماعت میں بہتر حلف نامہ لے کر آنے کو کہا۔ عدالت نے خاص طور پر وضاحت طلب کی ہے کہ جب موٹر سائیکل سوار کو موقع پر پکڑے جانے کی بات تسلیم کی جا رہی ہے تو ایف آئی آر میں اس کا نام کیوں درج نہیں کیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ شروع میں نام خالی رکھنے کے بعد اسے بعد میں کیوں شامل کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے متعلقہ پولیس افسر کو اگلی تاریخ پر پیش ہو کر پورے واقعے کی وضاحت دینے کو کہا ہے۔ خاص طور پر ایف آئی آر میں ’نامعلوم‘ ملزم لکھے جانے اور بعد میں ’تشار‘ نام سامنے آنے کے درمیان کے پورے عمل پر جواب طلب کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں فی الحال عدالت نے اتر پردیش پولیس کی تمام تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کا کوئی حتمی حکم نہیں دیا ہے۔ سی بی آئی سے متعلق عدالت کا تبصرہ سماعت کے دوران بنچ کی ناراضگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اب اگلی سماعت میں پولیس کی وضاحت اور ترمیم شدہ حلف نامہ اس معاملے میں اہم ہوگا۔

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے بدھ، 30 ستمبر کو ایک ایف آئی آر سے متعلق معاملے کی سماعت کرتے ہوئے اتر پردیش پولیس کو سخت پھٹکار لگائی۔ جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا کی سپریم کورٹ ...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn