کلکتہ: کلکتہ کے مصروف ترین علاقے پارک اسٹریٹ کے ایک بینک میں کئی 'میول اکاو¿نٹ' یعنی کرائے کے بینک کھاتوں کا پردہ فاش ہوا ہے۔ ان جعلی اور کرائے کے کھاتوں کو استعمال کر کے پورے ملک میں تقریباً 2 کروڑ 44 لاکھ روپے کی سائبر دھوکہ دہی کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کر کے ان کھاتوں کے پیچھے چھپے اصل مجرموں کی تلاش شروع کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق، پارک اسٹریٹ کی ایک تجارتی عمارت میں واقع ایک پرائیویٹ بینک کی شاخ میں چند مشکوک کھاتے کھولے گئے تھے۔ نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل پر ملک کے مختلف حصوں کے باشندوں کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کی جانچ پڑتال کے دوران یہ معاملہ پولیس کی نظر میں آیا۔ پولیس نے پتا لگایا کہ ان کھاتوں کے ذریعے مختلف طریقوں سے سائبر فراڈ کیا جا رہا تھا۔
لوگوں کو کبھی جعلی سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر تو کبھی شیئر ٹریڈنگ کے نام پر رقوم ہتھیائی جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ 'ڈیجیٹل اریسٹ' کا خوف دکھا کر، جعلی کے وائی سی اپ ڈیٹ کرنے یا بینک افسر کی حیثیت سے جھوٹ بول کر عام لوگوں سے لاکھوں روپے لوٹے جاتے تھے۔
ابتدائی تفتیش سے پولیس کو پتا چلا ہے کہ پارک اسٹریٹ کے ان بینک اکاو¿نٹس میں مجموعی طور پر تقریباً 2 کروڑ 44 لاکھ 83 ہزار روپے کی ٹرانزیکشن (لین دین) کی گئی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں موجود اکاونٹس سے یہ رقم ان کھاتوں میں منتقل کی گئی تھی، اور بعد میں سائبر فراڈ کی اس بھاری بھرکم رقم کو دیگر کھاتوں میں منتقل کر کے غائب کر دیا گیا۔پولیس اب اس پورے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے بینک کھاتوں کے لین دین کے دستاویزات اور ڈیجیٹل شواہد کو باریک بینی سے کھنگال رہی ہے۔ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آخر یہ کھاتے کس نے کھولے تھے اور ان کا اصل آپریٹر کون تھا؟ آیا یہ اکاو¿نٹس جعلی دستاویزات کے ذریعے کھولے گئے تھے یا نہیں، اس کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔
کلکتہ: کلکتہ کے مصروف ترین علاقے پارک اسٹریٹ کے ایک بینک میں کئی 'میول اکاو¿نٹ' یعنی کرائے کے بینک کھاتوں کا پردہ فاش ہوا ہے۔ ان جعلی اور کرائے کے کھاتوں کو استعمال کر کے پورے ملک...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments