نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش میں کین-بیتوا دریا جوڑو منصوبے سے متاثر قبائلیوں کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مودی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ ویڈیو میں متاثرہ قبائلیوں کے احتجاج کے دل دہلا دینے والے مناظر دکھائے گئے ہیں، جبکہ پس منظر میں شاعرہ شکشا پاریک کی لکھی اور پڑھی گئی نظم ان کی جدوجہد کو آواز دیتی ہے۔ ویڈیو میں خواتین کو لکڑی کی ارتھیوں پر لیٹے، کئی مظاہرین کو گلے میں پھندے ڈالے اور متعدد افراد کو دریا کے پانی میں کھڑے ہو کر احتجاج کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے ہاتھوں میں ایسی تختیاں بھی نظر آتی ہیں جن پر انصاف اور بازآبادکاری کے مطالبات درج ہیں۔ یہ احتجاج کین-بیتوا منصوبے کے باعث بے گھر ہونے والے قبائلی خاندانوں کی مشکلات کو اجاگر کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی نے ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’مودی حکومت سچ اور ستیہ گرہ، دونوں سے ڈرتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے قبائلی بھائی بہن جل ستیہ گرہ اور بھوک ہڑتال پر اس لیے بیٹھے ہیں کیونکہ کین-بیتوا منصوبے کے تحت ان کی زمینیں چھین لی گئی ہیں، مگر انہیں نہ منصفانہ معاوضہ ملا اور نہ ہی باعزت بازآبادکاری۔ انہوں نے کہا کہ آدیواسی اس ملک کے اولین باشندے ہیں اور پانی، جنگل اور زمین پر سب سے پہلا حق انہی کا ہے، لیکن آج انہی کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق متاثرین صرف اتنا چاہتے ہیں کہ انہیں باعزت زندگی گزارنے کا سہارا دیا جائے، مگر حکومت ان کی بات سننے کے بجائے پولیس کے ذریعے ان کے پرامن احتجاج کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ویڈیو میں سنائی دینے والی نظم میں دور دراز کے قبائلی دیہات کی بے بسی کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ نظم میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر جنتر منتر پر اٹھنے والی آوازیں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ سکتی ہیں تو جنگلوں اور دیہات میں بسنے والے لوگوں کی فریاد کیوں نہیں سنی جاتی۔ نظم آئین، پارلیمنٹ، انصاف، زمین، روزگار اور انسانی وقار جیسے موضوعات کے گرد گھومتی ہے اور حکومت سے جواب طلب کرتی ہے۔ راہل گاندھی نے ویڈیو کے کریڈٹس میں شاعرہ شکشا پاریک اور لوک سنگھ کا نام بھی درج کیا ہے۔ شکشا پاریک اپنے تخلیقی پلیٹ فارم ’فیلوریا‘ کے ذریعے سماجی موضوعات پر شاعری اور بصری مواد پیش کرتی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے خلاف متاثرہ قبائلی کئی ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت نے زمین کے حصول سے قبل نہ گرام سبھا کی رضامندی حاصل کی، نہ شفاف ماحولیاتی جائزہ پیش کیا اور نہ ہی تمام متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ یا باعزت بازآبادکاری فراہم کی۔ اس تحریک کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں بھی لیا گیا، جبکہ احتجاج کرنے والے قبائلیوں نے پانی میں کھڑے ہو کر، ارتھیوں پر لیٹ کر اور گلے میں پھندے ڈال کر اپنی بے بسی اور مایوسی کو علامتی انداز میں دنیا کے سامنے رکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنی زمین اور روزگار ہی نہیں بلکہ اپنی ثقافتی شناخت اور آبائی جنگلات سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
9 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments