بدھ کے روز جاری ہونے والے اسرائیلی تخمینوں کے مطابق ایران تہران کے جنوب میں نطنز کے قریب "کوہِ کولنگ" کے مقام پر زیرِ زمین ایک ایسی تنصیب قائم کرنے کے قابل ہو چکا ہے جس کا مقصد 90 فی صد تک عسکری سطح پر یورینیم کی افزودگی کا عمل انجام دینا ہے۔ دوسری جانب تہران نے اس کی تردید کی ہے اور یہ بات امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس جوہری تنصیب کو دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکی دینے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ریڈیو کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں تخمینوں سے معلوم ہوتا ہے کہ "کوہ کولنگ" جو کہ نطنز نیوکلیئر کمپلیکس کے قریب زمین کے اندر کافی گہرائی میں تعمیر کی گئی ایک محفوظ تنصیب ہے... کے اندر زیرِ زمین یورینیم کی افزودگی کے لیے تنصیب کی تعمیر کے تمام ضروری اجزاء موجود ہیں۔ ریڈیو نے یہ بھی بتایا کہ "کوہِ کولنگ" تنصیب میں افزودہ یورینیم کی موجودگی ایک واضح خطرے کی گھنٹی ہوگی جس پر امریکی کارروائی لازمی ہو جائے گی۔ جبکہ ملٹری ریڈیو نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی تخمینوں کے مطابق امریکہ اس تنصیب کو معطل کرنے اور اس کے آپریشنز کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن وہ اسے مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکتا۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ پر ایرانی پرامن جوہری تنصیبات کے خلاف مسلسل حملوں اور دھمکیوں کے ذریعے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ بقائی نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہا کہ ایرانی جوہری سرگرمیوں سے سیف گارڈز کے التزامات کے مطابق "بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو مکمل طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے" اور ان کے نزدیک امریکہ کا "کوہِ کولنگ" کے مقام پر توجہ مرکوز کرنا... جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہاں کوئی جوہری سرگرمی نہیں ہو رہی... جارحیت، تباہی اور تخریب کاری کے لیے گھڑا ہوا ایک بہانہ ہے۔ بقائی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (اے آئی ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا "ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کہاں ہیں، جو اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار بھی ہیں"۔ امریکہ کے صدر نے کل منگل کے روز "کوہِ کولنگ" تنصیب کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی کی تجدید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ "بہت جلد" اس سائٹ پر "زور دار ضرب" لگائے گا۔ اس سے قبل چند دن پہلے انہوں نے یہ دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ "ہم کوہِ کولنگ کو تباہ کر دیں گے... ایرانیوں سے کہو کہ وہ تیار رہیں"۔ تہران 2020 میں اس مقام کی تعمیر شروع ہونے کے وقت سے اس بات پر زور دیتا آ رہا ہے کہ یہ تنصیب جدید سینٹری فیوجز کو جوڑنے اور بنانے سے متعلق پُر امن مقاصد کے لیے مخصوص ہے۔ وہ عسکری مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کے لیے اس کے استعمال کی تردید کرتا ہے۔
Source: Admin
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
10 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
10 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
4 months ago
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
4 months ago
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
4 months ago
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
4 months ago
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments