ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات اچھے طریقے سے چل رہے ہیں، لیکن آپ جانتے ہیں، وہ پوری طرح قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔
یہ جنگ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ پر حملوں سے شروع کی تھی۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ کو جارحانہ کارروائی کی کوئی جلدی نہیں، کیونکہ وہ ایران کی فوجی صلاحیتوں اور جوہری پروگرام کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا چکا ہے۔
فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا: ہم نے ان کی جوہری صلاحیتیں ختم کر دی ہیں۔ ہمارے سامنے ابھی ایک یا دو مقامات باقی ہیں، جن سے نمٹنا ہے، لیکن ہم یہ کام 10 منٹ میں کر سکتے ہیں۔
انہوں نے'' کلہاڑی کا پہاڑ'' کا ذکر کیا، جو اصفہان صوبے میں تہران سے تقریباً 200 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔تاہم ایرانی حکومت نے وہاں کسی بھی جوہری سرگرمی کی تردید کی ہے۔
اس سے پہلے ہفتے کو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ جنگ ختم کرنے کے مذاکرات میں تعطل کے باوجود ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور امریکہ سفارتی حل کے لیے تیار رہے گا۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتے کو امریکہ اور اسرائیل کو نئے حملوں سے خبردار کیا۔ یہ انتباہ وسط مدتی انتخابات کے بعد حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا۔
خامنہ ای نے مسلح افواج کو حکم دیا کہ دشمن کی کسی بھی دھمکی پر بغیر کسی جغرافیائی پابندی کے فوری جواب دیا جائے،یہ بات ہفتے کو ان کے سرکاری ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہی گئی۔
خامنہ ای نے کہا کہ دشمن جو نئے فوجی یا دہشت گردانہ حملے دوبارہ شروع کرے گا، ان کے خاتمے کا وقت اور حالات ایران طے کرے گا۔
انہوں نے فوجی اہداف کی فہرست اپ ڈیٹ کرنے کا حکم بھی دیا تاکہ امریکہ اور اسرائیل کے مختلف مادی اور غیر مادی اثاثے ایرانی مسلح افواج کی زد میں آ سکیں۔
اسی دوران ٹرمپ نے ہفتے کی صبح اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات کی۔ یہ بات کال سے آگاہ افراد کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔
اس وقت واشنگٹن ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے بتایا کہ یہ کال ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں اپنے اعلیٰ فوجی قائدین کے ساتھ اس ملاقات کے چند دن بعد ہوئی جس میں خطے میں بڑی جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے آپشنز پر بات ہوئی۔
اخبار کے مطابق اس اجلاس میں امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ اور دیگر کمانڈر شامل تھے، اس میں ایران سے نمٹنے کے طریقوں اور متعلقہ امور پر گفتگو ہوئی۔
اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اشارہ کیا کہ یہ مشاورت امریکہ کی وسیع فوجی تیاریوں کا حصہ ہے، جن میں خطے میں کمک کی تعیناتی بھی شامل ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن کسی ممکنہ اقدام سے پہلے اپنے آپشنز کو آخری شکل دے رہا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن ووٹروں کو متحرک کرنے کی آخری کوششیں کر رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے ایندھن کی قیمتیں بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے اور اس سے ریپبلکن پارٹی کے جوش و خروش پر منفی اثر پڑا ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق خطے میں امریکی جنگ سے جڑی پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں وائٹ ہاؤس کے لیے سیاسی بوجھ بنتی جا رہی ہیں، جبکہ اب سب کی نظریں پولنگ اسٹیشنوں پر ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی صبح کہا کہ ان کے ملک نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کا بڑا حصہ تباہ کر دیا ہے، لیکن اسے اب بھی ایک یا دو اہداف سے نمٹنا ہے۔ ان میں ''کلہاڑی کا پہاڑ'' کے ...