ماہر حیوانیات جیمز اوہانلون کی ایک نئی کتاب اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کٹے ہوئے دم والا ڈرونگو پرندہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے مضبوط ترین امیدوار مثالوں میں سے ایک ہے کہ کچھ جانور جان بوجھ کر دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں کیونکہ وہ دوسرے جانوروں کی خطرے کی آوازوں کی نقل اتارتا ہے تاکہ وہ اپنے کھانے سے بھاگ جائیں اور یہ اس پر قبضہ کر لے تاہم سائنسدان ابھی تک اس رویے کو انسانی معنوں میں جھوٹ قرار دینے سے گریزاں ہیں۔
ویب سائٹ ’’ لائیو سائنس‘‘ کے مطابق اوہانلون اپنی کتاب "لیئرز، چیٹرز اینڈ ممیز" ، جو کولمبیا یونیورسٹی پریس کی طرف سے 2026 میں شائع ہوئی ہے، میں فطرت میں دھوکے کی صور توں کا جائزہ لیتے ہیں۔ بھیس بدلنے سے لے کر نقل اتارنے اور گمراہ کرنے تک جانوروں کے جھوٹ بولنے کی صلاحیت کے بارے میں مرکزی سوال تک پہنچتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس کا جواب دینا حیوانی رویے کی تحقیق میں سب سے مشکل مسائل میں سے ایک ہے۔
بغیر شعور کے دھوکہ
فطرت میں دھوکے کی زیادہ تر شکلیں جاندار کے کسی شعور کے بغیر ہوتی ہیں۔ اورکڈ منٹس کیڑا یہ نہیں جانتا کہ وہ پھول سے مشابہت رکھتا ہے اور اپنے پروں پر آنکھوں جیسے دھبوں والی تتلی اس شکاری سے واقف نہیں ہوتی جسے وہ حیران کرتی ہے۔ یہ ایسی خصوصیات ہیں جو قدرتی انتخاب نے ان گنت نسلوں کے ذریعے تشکیل دی ہیں اور یہ کوئی با شعور فیصلے نہیں ہیں۔ اس کے برعکس رویوں کا ایک چھوٹا سا حصہ عمدی اور حکمت عملی پر مبنی بھی لگتا ہے اور اس کا مقصد دوسرے فرد کے عقائد میں اس طرح پھیلاؤ یا تبدیلی لانا ہوتا ہے جو انسانی جھوٹ سے مشابہت رکھتا ہے۔
نقل اتارنے میں ماہر ایک پرندہ کٹی ہوئی دم والا ڈرونگو (Dicrurus adsimilis) ہے۔ یہ ایک چھوٹا افریقی پرندہ ہے اور صوتی آوازوں کی نقل اتارنے میں مہارت رکھتا ہے جن میں میرکاٹ (ایک چھوٹا سماجی ممالیہ جانور جو نیولے جیسا ہوتا ہے) کی خطرے کی آواز بھی شامل ہے۔ میرکاٹ اس آواز پر اسی طرح ردعمل دیتے ہیں جیسے وہ اپنے گروپ کے کسی فرد کی آواز پر دیتے ہیں اور جلدی سے حفاظت کی طرف بھاگتے ہیں۔ اس دوران پرندہ واپس آ کر ان کا چھوڑا ہوا کھانا اٹھا لیتا ہے۔ بات صرف اسی پر محدود نہیں ہے کیونکہ ڈرونگو پڑوسی پرندوں جیسے چمکدار سارنگ اور چتکبرے بابلی کی آوازوں کی بھی نقل اتارتا ہے۔ محققین نے اس کے ذخیرے میں 50 سے زیادہ منفرد دھوکے باز آوازیں ریکارڈ کی ہیں۔
ان آوازوں کو مسلسل تبدیل کرنے سے شکار اس چال کو پہچاننا نہیں سیکھ پاتے اور یوں چوری کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہتا ہے۔ چتکبرے بابلی پرندے اور سماجی بنکر، جو زمین پر گروہوں میں اپنے کھانے کی تلاش کرتے ہیں، اسی جال میں پھنس جاتے ہیں اور اپنا کھانا چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ اگر اس مشہور کہانی کے لڑکے کے پاس جو "بھیڑیا آیا" چلاتا تھا ایسی لچک ہوتی تو وہ اپنی چال کو چھپانے میں کامیاب ہو جاتا لیکن اس صورت میں کہانی ایک مختلف اور زیادہ تاریک سبق فراہم کرتی۔
سائنس ی احتیاط
جانورو ں کی جھوٹ بولنے کی صلاحیت کے بارے میں ہماری سمجھ ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ جو جانور سماجی گروہوں میں رہتے ہیں وہ جنگل میں دھوکے بازوں کی میزبانی کرنے کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ ان کے اندر جو کچھ ہوتا ہے اس میں سے بہت کم کا انکشاف ہوا ہے۔ اس طرح کے دھوکے کی ملتی جلتی شکلیں نہنگوں اور ڈالفن کے زیریں صوتی گانوں میں یا چیونٹیوں اور دیمک میں کیمیائی اشاروں میں یا جنگلی کتوں کے بھونکنے اور ان کی ہوو ہوو میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔
دلائل کے جمع ہونے کے ب اوجود سائنسدان اس بات کا تعین کرنے میں ہچکچکا رہے ہیں کہ جانور قصداً ایسا دھوکہ دیتے ہیں جیسا دھوکہ انسان دیتے ہیں۔ اوہانلون اس کی وجہ دو پیشہ ورانہ وجوہات کو قرار دیتے ہیں نہ کہ جانوروں کے معاشروں میں جو کچھ ہوتا ہے اس کی حقیقت کو۔ پہلی وجہ دوسری انواع پر انسانی خصوصیات اور جذبات کو لاگو کرنے سے گریز کا قاعدہ ہے ۔ چونکہ جھوٹ بولنا ایک ممتاز انسانی رویہ ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں احتیاط زیادہ شدید ہے۔ اور دوسری وجہ سائنسدانوں کو حتمی فیصلہ نہ کرنے کی تربیت دی جاتی ہے کیونکہ سائنس مفروضوں کو مسترد کرنے کا موقع دیتی ہے لیکن وہ انہیں حتمی طور پر ثابت نہیں کرتی۔
ماہر حیوانیات جیمز اوہانلون کی ایک نئی کتاب اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کٹے ہوئے دم والا ڈرونگو پرندہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے مضبوط ترین امیدوار مثالوں میں سے ایک ہے کہ کچھ ج...
Source: Admin