پاکستان کی جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم نے اپنے والد کی صحت اور جیل میں ان کی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر جانب دار ڈاکٹروں سے معائنہ اور کسی غیر جانب دار اسپتال میں علاج کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق عمران خان کے وکیل جیرڈ جینسر نے ایک آن لائن پریس بریفنگ کی، جس میں عمران خان کے دونوں بیٹوں نے بھی گفتگو کی۔ سلیمان نے بتایا کہ ان کی اپنے والد سے آخری مرتبہ مارچ میں فون پر بات ہوئی تھی، جس کے بعد انہیں فون پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
سلیمان کے مطابق مارچ میں ہونے والی گفتگو کے دوران عمران خان پُرجوش دکھائی دے رہے تھے، تاہم مسلسل تنہائی کا اب ان پر اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں ان کی ایک پھوپھی نے عمران خان سے ملاقات کی اور بعد میں انہیں بتایا کہ عمران خان کی باتیں سن کر وہ بہت پریشان ہو گئی تھیں۔
سلیمان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو یہ خدشہ بھی ہے کہ جیل میں انہیں آہستہ آہستہ مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم یہ الزام عمران خان کے بیٹے کی جانب سے بیان کیا گیا ہے اور پاکستانی حکومت اس دعوے کی تردید کرتی ہے۔ عمران خان کے دوسرے بیٹے قاسم نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے والد کا معائنہ اور علاج آزاد ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو کسی غیر جانب دار اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔
قاسم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جائے گا کہ عمران خان مکمل طور پر صحت مند ہیں، لیکن اگر ایسا ہے تو حکومت کو اس کا ثبوت پیش کرنا چاہیے۔ عمران خان کی صحت اور علاج سے متعلق معاملہ اس وقت مزید اہم ہو گیا جب 18 اگست کو پاکستان کے سپریم کورٹ نے انہیں علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم اس حکم کے بعد حکومت نے عمران خان کا معائنہ ایک سرکاری اسپتال میں کرایا اور انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پارٹی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرانے جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ عدالت کے حکم کے مطابق عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔
دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ شفا اسپتال کے باہر اور اطراف پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پیدا کی گئی سکیورٹی صورتِ حال کے باعث عمران خان کو سرکاری اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ عطا اللہ تارڑ کے مطابق حکومت عمران خان کو اپنے میڈیکل سینٹر لے گئی، جہاں ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا اور انہیں صحت مند قرار دیا گیا۔
واضح رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور ان کی صحت، جیل میں سہولیات اور اہل خانہ سے رابطے کا معاملہ مسلسل سیاسی تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔
قبل ازیں، عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ نے بھی ان کی صورتِ حال پر آواز بلند کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عمران خان کے معاملے پر خاموشی ختم کرے۔ جمائمہ نے سوال کیا تھا کہ برطانیہ آخر کب تک خاموش رہے گا اور کہا تھا کہ معاملہ اب محض سیاسی نہیں بلکہ انسانی حقوق کا بحران بن چکا ہے۔
پاکستان کی جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم نے اپنے والد کی صحت اور جیل میں ان کی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر جانب دار ڈاکٹروں سے معائنہ ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments