نئی دہلی : اتر پردیش کی غازی پور لوک سبھا سیٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری کو ان کی قرق شدہ جائیدادوں کے معاملے میں بڑی راحت ملی ہے۔ سال 2022 میں انتظامیہ نے ان کی تقریباً 12 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کو قرق کرکے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ عدالتی احکامات کے بعد اب ان جائیدادوں کو آزاد کر دیا گیا ہے۔ جائیداد واپس ملنے کے بعد افضال انصاری نے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہے اور عدالت کے احکامات پر عمل ہوا ہے۔ افضال انصاری نے کہا کہ جولائی اور اگست کے دوران ان کی متعدد غیر منقولہ جائیدادیں، کھیت، باغات، پانی کے پمپ ہاؤس اور فارم ہاؤس یعنی کیمپ سمیت مختلف املاک کو قرق کرکے ضبط کر لیا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کھڑی فصلوں تک کو بھی ضبط کر لیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، یہ کارروائی اس الزام کی بنیاد پر کی گئی تھی کہ وہ گینگسٹر ہیں اور ان کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کے تحت مقدمہ زیر التوا تھا۔
سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ غازی پور کی عدالت نے تقریباً ایک سال قبل ان کی جائیدادیں آزاد کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان کے مطابق، عدالت نے یہ فیصلہ اس بنیاد پر دیا کہ جن الزامات کے تحت ان کی زمین اور دیگر جائیدادیں ضبط کی گئی تھیں، ان الزامات کے معاملے میں بعد میں انہیں راحت مل چکی ہے۔افضال انصاری نے کہا کہ اسی مقدمے میں غازی پور کی عدالت نے ابتدا میں انہیں چار سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ بعد میں الہ آباد ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے انہیں تمام الزامات سے بری کر دیا۔ اتر پردیش حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
افضال انصاری کے مطابق سپریم کورٹ نے بھی الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور واضح کیا کہ اس حکم میں مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلوں کے بعد ان کی قرق شدہ جائیدادوں کو آزاد کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے معاملے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہے اور عدالتی احکامات کی بنیاد پر کارروائی آگے بڑھتی ہے۔ انہوں نے اپنی جائیدادوں کی رہائی کو عدالتوں سے ملنے والی قانونی راحت قرار دیا۔افضال انصاری نے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے کردار پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں عوام کے ذریعے منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں بیٹھتے ہیں اور اکثریت رکھنے والی جماعت حکومت تشکیل دیتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ وقت میں این ڈی اے اقتدار میں ہے جب کہ راہل گاندھی لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔
افضال انصاری نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے حکومت سے سوال کرنا، اس کی پالیسیوں کی خامیوں کو اجاگر کرنا اور عوام سے متعلق مسائل اٹھانا راہل گاندھی کا آئینی حق اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس سلسلے میں انہیں کوئی نوٹس بھی دیا جاتا ہے تو وہ اپنا کام جاری رکھیں گے، کیونکہ عوام نے انہیں منتخب کرکے پارلیمنٹ بھیجا ہے۔ انہوں نے حکومت کی مبینہ عوام مخالف پالیسیوں پر سوال اٹھانے کی حمایت بھی کی۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments