نئی دہلی/ممبئی، 31 اگست : الیکشن کمیشن نے خصوصی جامع نظرثانی مہم کے بعد مہاراشٹر میں 20793916 اور نئی دہلی میں 4756722 ووٹروں کے نام ووٹر فہرست کے مسودے سے خارج کر دیے ہیں۔
گھر گھر جا کر بڑے پیمانے پر کیے گئے تصدیق اور ڈیجیٹائزیشن کے عمل سے پتہ چلا ہے کہ مہاراشٹر میں رجسٹرڈ تقریباً 9.78 کروڑ ووٹروں میں سے صرف 7.69 کروڑ ریکارڈ ہی کامیابی کے ساتھ تصدیق اور ڈیجیٹائز کیے جا سکے ہیں۔
اسی طرح قومی راجدھانی میں بھی ایسا ہی رجحان دیکھا گیا، جہاں کل 1.45 کروڑ ووٹروں میں سے صرف 9753507 افراد کے نام ہی حتمی مسودے میں شامل ہو سکے ، جس سے دہلی کے تقریباً ایک تہائی ووٹر فہرست سے باہر رہ گئے ۔
الیکشن کمیشن کے افسران نے بڑی تعداد میں نام خارج کیے جانے کی وجوہات میں گنتی کے فارم جمع نہ ہو پانا، لوگوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا، تیزی سے شہری کاری اور زمینی سطح پر کام کے دوران تکنیکی دشواریاں وغیرہ بتائی ہیں۔ جن لوگوں کے نام خارج کیے گئے ہیں، ان میں بنیادی طور پر وہ ووٹر شامل ہیں جو دوسری جگہ منتقل ہو گئے ہیں، جو اپنے رجسٹرڈ پتے پر بار بار نہیں ملے ، جن کی موت ہو چکی ہے اور جن کے نام ایک سے زیادہ انتخابی حلقوں کی فہرست میں تھے ۔
الیکشن حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسودہ ووٹر فہرست سے نام خارج ہونے کا مطلب ووٹ دینے کا حق ہمیشہ کے لیے کھو دینا نہیں ہے ۔ جن شہریوں کے نام فہرست میں شامل نہیں کیے گئے ہیں، انہیں دعوے اور اعتراضات درج کرانے کے لیے قانونی طور پر وقت دیا گیا ہے ۔
الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ 31 اگست سے 30 ستمبر، 2026 کے درمیان دعوے اور اعتراضات درج کرائے جا سکتے ہیں۔ تمام درخواستوں پر کارروائی کرکے ان کا نپٹارا 29 اکتوبر، 2026 تک کر دیا جائے گا، جس سے چار نومبر، 2026 کو حتمی ووٹر فہرست شائع کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
ووٹروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مقامی بوتھ لیول افسران یا ریاست کے چیف الیکشن افسر کے سرکاری پورٹل کے ذریعے اپنی معلومات کی تصدیق کر لیں اور 30 ستمبر کی آخری تاریخ سے پہلے دوبارہ نام درج کرانے کے لیے فارم چھ یا معلومات میں اصلاح کے لیے فارم آٹھ پُر کریں۔
الیکشن کمیشن نے خصوصی جامع نظرثانی مہم کے بعد مہاراشٹر میں 20793916 اور نئی دہلی میں 4756722 ووٹروں کے نام ووٹر فہرست کے مسودے سے خارج کر دیے ہیں۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments