اسرائیل نے ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز پر ان کے اس بیان کے حوالے سے جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے جس میں انھوں نے یہ کہا تھا کہ روس اور اسرائیل سے جڑی گمراہ کن معلومات نے سبتہ کی طرف تارکینِ وطن کے سیلاب میں کردار ادا کیا۔
سبتہ شمالی افریقا کے ساحل پر واقع اسپین کا ایک خود مختار شہر ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے آج پیر کے روز "ایکس" پلیٹ فارم پر لکھا کہ "انھوں (سانچیز) نے آج ریڈیو انٹرویو میں ایک بار پھر جھوٹ بولا ہے... اور حیرت انگیز طور پر اسرائیل پر سبتہ کے واقعات کے بارے میں گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزامات عائد کیے ہیں... یہ ایک ڈھٹائی پر مبنی جھوٹ ہے"۔ ساعر کے مطابق توہین آمیز جھوٹ پھیلانے کو جاری رکھنا سانچیز کی جانب سے اپنے ملک کے امور کو چلانے میں ناکامی سے توجہ نہیں ہٹائے گا۔
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایسے اشارے موجود ہیں کہ روس اور اسرائیل نے اسپین میں ہجرت کی پالیسی کے بارے میں گمراہ کن معلومات پھیلائیں، جس کی وجہ سے گذشتہ ماہ سبتہ شہر کی طرف تارکینِ وطن کا سیلاب آ گیا۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس میں مراکش کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
رواں سال30 اور 31 جولائی کو مراکش سے 72 ہزار سے زائد تارکینِ وطن نے غیر قانونی طور پر ہسپانوی سرحد کو عبور کیا جو افریقا کے ساتھ یورپی یونین کی دو واحد زمینی گزر گاہوں میں سے ایک پر ایک غیر معمولی بہاؤ ہے، جس نے پورے یورپی بلاک میں تشویش پیدا کر دی۔ سبتہ کے مقامی حکام نے کہا کہ اس کوشش کے دوران کم از کم 100 افراد ہلاک ہو گئے۔ ہسپانوی حزب اختلاف کی جماعتوں اور کچھ انسانی حقوق کے گروپوں نے رباط حکومت (مراکش) پر الزام لگایا کہ اس نے جان بوجھ کر اجتماعی عبور کے عمل کی اجازت دی۔ مراکش نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
سانچیز نے بتایا کہ جب لوگ بات کرتے ہیں اور مراکش کے حکام کے ملوث ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں کرتے ہیں، تو میں اس کی قطعی تردید کرتا ہوں۔ ہسپانوی حکام نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر وڈیوز میں گمراہ کن دعوے کیے گئے جن میں کہا گیا کہ جو تارکینِ وطن سمندر کے راستے سبتہ پہنچتے ہیں وہ اسپین میں رہ سکتے ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں افراد نے عبور کرنے کی کوشش کی۔
سانچیز نے ذکر کیا کہ یورپی یونین کے سفارتی ونگ کی طرف سے کی گئی تحقیق سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ روسی اور اسرائیلی نیٹ ورکس انتہائی دائیں بازو کے نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر گمراہ کن معلومات پھیلانے کے پیچھے ہیں۔ سانچیز نے مزید کہا کہ یہ واضح ہے کہ دونوں ممالک نے یوکرین اور غزہ کی جنگوں میں اسپین کے موقف سے عدم اطمینان کی وجہ سے ہسپانوی حکومت پر تنقید کرنے کے لیے بحران کا فائدہ اٹھایا۔
تقریباً 5000 تارکینِ وطن سرحد پار کرنے کے بعد سے اب تک سبتہ میں موجود ہیں، جس کی وجہ سے مقامی باشندوں کی طرف سے بحران سے نمٹنے کے ہسپانوی حکومت کے طریقے پر روزانہ کی بنیاد پر احتجاج ہو رہا ہے۔ ہسپانوی خبر رساں ایجنسی نے پولیس کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ پولیس نے کل اتوار کو سبتہ میں فوج کی گشتی ٹیم پر خطرناک مائع سے بھری بوتلیں پھینکنے کے الزام میں تین مراکشی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔
سانچیز نے آج بروز پیر اعلان کیا کہ حکومت سبتہ کی معیشت کو بحال کرنے کے لیے ہنگامی فنڈنگ کے طور پر مزید 16.8 کروڑ یورو مختص کرے گی۔
اسرائیل نے ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز پر ان کے اس بیان کے حوالے سے جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے جس میں انھوں نے یہ کہا تھا کہ روس اور اسرائیل سے جڑی گمراہ کن معلومات نے سبتہ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments