بہار میں طلباء کے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کی بربریت کے تعلق سے دائر کی گئی مفاد عامہ کی عرضیوں پر ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا ہے۔ حکومت نے پولیس پر غیر متناسب طاقت کے استعمال کے الزامات سے انکار کیا۔ حکومت نے کہا ہے کہ قانونی نظم و نسق بگڑنے پر پولیس نے بھیڑ کو قابو کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے۔ وہیں سیوان میں پولیس اہلکار کے ذریعہ ’اے کے-47‘ سے فائرنگ کے معاملے میں ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ ’’ہجوم میں پھنس جانے کے بعد کانسٹیبل نے ہوا میں 4 گولیاں چلائی تھیں۔‘‘ حکومت کے مطابق ’اے کے-47‘ سے مظاہرین کو چوٹ نہیں لگی ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے یہ بھی قبول کیا ہے کہ ہتھیار کا استعمال قانونی نظم و نسق کی صورتحال میں نہیں کیا جانا چاہئے۔ ’اے کے-47‘ کو پلاٹون سطح کا ہتھیار بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے خصوصی آپریشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ریاست کے ڈی جی پی نے ’اے کے-47‘ کے استعمال کو لے کر ہدایت بھی جاری کی ہے۔ فائرنگ کرنے والے کانسٹیبل کو معطل کر کے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ حکومت نے بتایا کہ ایک ’اے ایس آئی‘ نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے اپنی 9 ایم ایم پستول سے 2 راؤنڈ فائر کیے، اس دوران 3 مظاہرین زخمی ہوئے۔ حکومت کے مطابق ان مظاہرین کو ’اے کے-47‘ سے گولی نہیں لگی تھی اور وہ اس جگہ پر بھی موجود نہیں تھے، جہاں ’اے کے-47‘ سے فائرنگ ہوئی تھی۔ حکومت نے بتایا کہ واقعے کی بیلسٹک جانچ جاری ہے، جس سے ہتھیار کی قسم، گولی چلنے کا فاصلہ اور فائرنگ کے زاویے کی تفصیل جمع کی جا رہی ہے۔ حکومت نے حلف نامے میں بتایا کہ طلباء اور نوجوان تنظیموں کے مظاہرین سیوان کے گاندھی میدان میں جمع ہوئے تھے۔ اس کے بعد مظاہرین جے پی چوک کی طرف مارچ کرنے لگے۔ دوپہر میں مظاہرین نے پولیس فورس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اس کے بعد میروہ روڈ اور گوپال گنج روڈ کی جانب سے آئے شرپسند عناصر بھی پتھراؤ میں شامل ہو گئے اور صورتحال پرتشدد ہو گئی۔
حلف نامے میں بتایا گیا کہ پتھراؤ کے واقعے میں سیوان کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیت 20 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ ان میں 2 ایس ڈی پی او، 2 انسپکٹر، 2 سب انسپکٹر اور 13 کانسٹیبل شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کی 2 گاڑیوں اور بڑی تعداد میں ٹریفک ٹرالیوں کو بھی نقصان پہنچنے کی بات کہی گئی ہے۔ ریاستی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پورے احتجاج کے دوران 157 پولیس اہلکار اور 7 سرکاری ملازمین زخمی ہوئے۔ حکومت نے بتایا کہ پر تشدد ہجوم کو قابو میں کرنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کے گولے بھی داغے گئے۔ قانونی نظم و نسق کو سنبھالنے کے لیے مختلف محکموں اور پولیس لائنوں میں تعینات افسران اور جوانوں کو بھی موقع پر بلایا گیا۔ حکومت نے بتایا کہ تشدد سے وابستہ معاملوں میں کل 82 لوگوں کے خلاف 6 ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان میں سے 17 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ کیس کی تفتیش جاری ہے۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments