امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ان کی جانب سے کیے گئے رابطوں کا جواب دیا ہے۔
یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس حکم کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں محدود کرنے کا کہا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ کے کم جونگ اُن کے ساتھ تعلقات کو اس بار وائٹ ہاؤس کی جانب سے پچھلی مدت صدارت کے مقابلے میں کم اہمیت دی گئی ہے۔
پہلی مدت کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں ہوئی تھیں جبکہ ایک دوسرے کو خطوط بھی بھیجے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس بار بھی بارہا یہ دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ براہ راست سفارت کاری شروع کرنا چاہتے ہیں۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کم جونگ نے ان کے دوبارہ رابطوں کا جواب کیوں نہیں دیا۔
اس پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے جواب دیا ہے۔‘ مگر اس کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی۔
وائٹ ہاؤس کے حکام اور نیویارک میں اقوام متحدہ کے شمالی کوریا کے مشن نے اس بارے میں تبصرے کے لیے بھجوائی گئی درخواستوں کا جواب دیا۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو پینٹاگون کو ہدایت کی تھی کہ جنوبی کوریا کے ساتھ طے شدہ مشترکہ فوجی مشقوں میں ’نمایاں کمی‘ کی جائے۔
انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ جنوبی کوریا نے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوشش میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا ہے جبکہ ایک وجہ ان مشقوں پر اٹھنے والے اخراجات کو بھی قرار دیا تھا۔
دوسری جانب شمالی کوریا مشترکہ مشقوں کی مذمت کرتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران کم جونگ اُن کے ساتھ ان کے تعلقات رہے۔ دونوں کے درمیان 2018 اور 2018 میں ملاقاتیں ہوئیں تاہم پیانگ یانگ کو جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد یہ سلسلہ رک گیا تھا۔
شمالی کوریا کو اپنے جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائلوں کی وجہ سے بھی عالمی سطح پر سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔
پچھلے برس کم جونگ اُن کی بااثر بہن کم یو جونگ نے اعتراف کیا تھا کہ ان کے ’بھائی اور صدر ٹرمپ کے درمیان ذاتی تعلقات برے نہیں۔‘
تاہم ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن ان تعلقات کو پیانگ یانگ کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے تو یہ کوشش ’محض مذاق‘ بن کر رہ جائے گی۔
2019 میں صدر ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان ہونے والی آخری ملاقات کے بعد سے شمالی کوریا نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات خاصے مضبوط کیے ہیں جبکہ چین کے ساتھ قریبی تعلقات کا سلسلہ برقرار ہے۔
شمالی کوریا کے فوجی یوکرین جنگ کے دوران روسی فوج کے ساتھ مل کر لڑ چکے ہیں۔
پچھلے ہفتے یوکرین کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ زاپوریژیا میں ایک سٹیل پلانٹ پر روسی بیلسٹک میزائل حملے میں شمالی کوریا کے تیار کردہ میزائل بھی استعمال کیے گئے تھے۔
Source: Admin
11 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
11 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
5 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
5 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
5 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
5 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
11 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
11 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
5 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
5 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
5 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
5 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
5 months ago
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
5 months ago
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
5 months ago
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
5 months ago
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments