Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

سی جے آئی سوریہ کانت نے راہل گاندھی کو بتایا وہ راستہ، جس سے کھلا سپریم کورٹ کا دروازہ، گیانیش کمار کے خلاف عرضی داخل

Admin
By Admin
Oct 13, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

سی جے آئی سوریہ کانت نے راہل گاندھی کو بتایا وہ راستہ، جس سے کھلا سپریم کورٹ کا دروازہ، گیانیش کمار کے خلاف عرضی داخل
سی جے آئی سوریہ کانت نے راہل گاندھی کو بتایا وہ راستہ، جس سے کھلا سپریم کورٹ کا دروازہ، گیانیش کمار کے خلاف عرضی داخل — October 13, 2026
کانگریس رہنما راہل گاندھی اور اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد نے پیر، 12 اکتوبر کی شام سپریم کورٹ تک مارچ نکالا اور وہاں پہنچ کر چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار کے خلاف عرضی دائر کی۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور ’ووٹ چوری‘ جیسے سنگین معاملات پر کارروائی ہونی چاہیے۔ دراصل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت (CJI Surya Kant) نے راہل گاندھی سمیت اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کرنے سے بھلے ہی انکار کر دیا تھا، لیکن انہوں نے سپریم کورٹ تک پہنچنے کا ایک واضح قانونی راستہ بتا دیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے کانگریس کے 10 سے 15 رہنماؤں پر مشتمل ایک وفد کو اپنے احاطے میں واقع فائلنگ کاؤنٹر پر جا کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عرضی جمع کرانے کی اجازت دے دی۔ خاص بات یہ رہی کہ فائلنگ کاؤنٹر بند ہونے سے ٹھیک ایک منٹ پہلے یہ عرضی دائر کی گئی۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دائر عرضی میں راہل گاندھی سمیت مجموعی طور پر 11 رہنماؤں کے نام شامل ہیں۔ ان میں ملکارجن کھڑگے، اکھلیش یادو، تیجسوی یادو، ڈی راجا، سوگت رائے، سنجے راوت، سپریا سولے، مہوا ماجھی، ای ٹی محمد بشیر اور ایم اے بیبی شامل ہیں۔

دراصل چیف جسٹس سوریہ کانت نے ان اپوزیشن رہنماؤں کو ملاقات کا وقت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جن معاملات پر وہ میمورنڈم پیش کرنا چاہتے ہیں، وہ پہلے ہی عدالت میں زیرِ سماعت ہیں۔ ایسے میں انتظامی سطح پر ملاقات کرنے کے بجائے عدالتی کارروائی کے ذریعے عدالت سے رجوع کرنا مناسب ہوگا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے 11 اکتوبر کو لکھے گئے خط میں راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کی اس درخواست کا جواب دیا، جس میں انہوں نے 12 اکتوبر کو شام 4 سے 5 بجے کے درمیان ملاقات کے لیے وقت مانگا تھا۔ ان اپوزیشن رہنماؤں کا مقصد چیف الیکشن کمشنر اور ہندوستانی الیکشن کمیشن، کئی طلبہ کی مبینہ منمانی گرفتاریوں، میٹرو اسٹیشنوں کو بند کیے جانے اور ٹرینوں کو منسوخ کرنے جیسے معاملات پر میمورنڈم پیش کرنا تھا۔

چیف جسٹس نے اپنے خط میں واضح کیا کہ ان معاملات سے متعلق مقدمات پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔ ایسے معاملات پر تبادلۂ خیال کے لیے ملاقات طلب کرنا آئین میں درج اختیارات کی علیحدگی (Separation of Powers) کے اصول کے خلاف ہوگا۔ انہوں نے اسے عدالتی وقار اور قائم شدہ روایات کے مطابق بھی مناسب نہیں سمجھا۔

تاہم، چیف جسٹس نے اپوزیشن رہنماؤں کو بتایا کہ اگر وہ ان معاملات میں عدالت کی مداخلت چاہتے ہیں تو انتظامی سطح پر میمورنڈم دینے کی بجائے عدالتی طریقۂ کار اختیار کر سکتے ہیں۔

چیف جسٹس سوریہ کانت نے اپنے خط میں آئین کے آرٹیکل 32 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کو انتظامی سطح پر اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے اٹھائے گئے معاملات سے نمٹنے کا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔ تاہم، شہریوں کے حقوق سے متعلق معاملات پر عدالتی حیثیت سے غور کرنا عدالت کی آئینی ذمہ داری ہے۔

آرٹیکل 32 شہریوں کو اپنے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں براہِ راست سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حق دیتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ ہر شہری کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے پابند عہد ہے اور شہری قانون میں مقررہ طریقۂ کار کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی بھی وقت عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

خط میں انہوں نے لکھا کہ اپوزیشن رہنماؤں کے لیے انتظامی سطح پر میمورنڈم پیش کرنے کی بجائے سپریم کورٹ کے عدالتی اختیارات کا استعمال کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اس طرح چیف جسٹس نے واضح کر دیا کہ ملاقات نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدالت کے دروازے بند ہو گئے ہیں۔ اگر اپوزیشن رہنما قانون کے مطابق عرضی دائر کرتے ہیں تو اس پر عدالتی کارروائی کے تحت غور کیا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے اپنے خط میں یہ بھی بتایا کہ اسی طرح کے معاملات سے متعلق کچھ مقدمات منگل، 13 اکتوبر کو سماعت کے لیے درج ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ مناسب سمجھیں تو پیر کو ہی عرضی دائر کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے دو متبادل بتائے۔ پہلا یہ کہ سپریم کورٹ میں پیر کے روز صبح 10:30 بجے سے شام 4:30 بجے کے درمیان براہِ راست عرضی دائر کی جائے، یا پھر ای فائلنگ کے ذریعے عرضی جمع کرائی جائے۔ چیف جسٹس نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ایسی عرضی پر قانون کے مطابق جلد از جلد سماعت کی جائے گی۔

چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت نہ ملنے کے باوجود انڈیا اتحاد نے پیر کو اپنا احتجاج جاری رکھا۔ راہل گاندھی نے کناٹ پلیس سے سپریم کورٹ تک ’چلو دہلی‘ مارچ کی قیادت کی۔ اس مارچ کے ذریعے اپوزیشن نے الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقۂ کار پر سوال اٹھائے اور ’ووٹ چوری‘ کے الزامات کے حوالے سے اپنے مطالبات سامنے رکھے۔

کانگریس رہنما راہل گاندھی اور اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد نے پیر، 12 اکتوبر کی شام سپریم کورٹ تک مارچ نکالا اور وہاں پہنچ کر چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار کے خلاف عرضی دائر...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn